عربی (اصل)
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا بَعَثَ أَهْلُ مَكَّةَ فِي فِدَاءِ أُسَرَائِهِمْ بَعَثَتْ زَيْنَبُ فِي فِدَاءِ أَبِي الْعَاصِ بِمَالٍ وَبَعَثَتْ فِيهِ بِقِلَادَةٍ لَهَا كَانَتْ عِنْدَ خَدِيجَةَ أَدْخَلَتْهَا بِهَا عَلَى أَبِي الْعَاصِ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقَّ لَهَا رِقَّةً شَدِيدَةً وَقَالَ: «إِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُطْلِقُوا لَهَا أَسِيرَهَا وَتَرُدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا» فَقَالُوا: نَعَمْ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ عَلَيْهِ أَنْ يُخَلِّيَ سَبِيلَ زَيْنَبَ إِلَيْهِ وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَرَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: «كونا ببطنِ يأحج حَتَّى تَمُرَّ بِكُمَا زَيْنَبُ فَتَصْحَبَاهَا حَتَّى تَأْتِيَا بهَا» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد
انگریزی ترجمہ
‘A’isha told that when the people of Mecca sent about ransoming their prisoners1 Hadrat Zainab sent some property to ransom Abul ‘As, sending among it a necklace of hers which Hadrat Khadija had had and had sent with her when she married Abul ‘As. When God’s Messenger saw it he felt great tenderness about it and said, “If you consider that you should free her prisoner for her and return to her what belongs to her it will be well.” To this they agreed. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) had made an agreement with him that he should let Hadrat Zainab come to him, so he sent Hadrat Zaid b. Haritha and a man of the Helpers, telling them to wait in the valley of Yajij2 till Hadrat Zainab came along and bring her back with them. 1. After the battle of Badr. 2. Near at-Tan'im. Ahmad and Abu Dawud transmitted it.
اردو ترجمہ
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: جب مکہ والوں نے اپنے قیدیوں کی فدیہ کے لیے بھیجا تو حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ابوالعاص کی فدیہ میں مال بھیجا اور اس میں ایک ہار بھی بھیجا جو حضرت اُمّ المؤمنین خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا تھا اور انہوں نے اسے شادی کے وقت زینب کو دیا تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دیکھا تو آپ بہت رقت زدہ ہوئے اور فرمایا: اگر تم مناسب سمجھو تو اس کا قیدی چھوڑ دو اور اس کا مال واپس کر دو۔ صحابہ نے کہا: جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ابوالعاص سے یہ عہد لیا تھا کہ وہ زینب کو آپ کے پاس بھیج دے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ایک انصاری کو بھیجا اور فرمایا: وادی یاجج میں ٹھہرنا یہاں تک کہ زینب تمہارے پاس سے گزرے تو اسے ساتھ لے کر آنا۔ (احمد و حضرت ابوداؤد)
