عربی (اصل)
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَيْهِ فِي مَوَارِيثَ لَمْ تَكُنْ لَهُمَا بَيِّنَةٌ إِلَّا دَعْوَاهُمَا فَقَالَ: «مَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ» . فَقَالَ الرَّجُلَانِ: كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ حَقِّي هَذَا لِصَاحِبِي فَقَالَ: «لَا وَلَكِنِ اذْهَبَا فَاقْتَسِمَا وَتَوَخَّيَا الْحَقَّ ثُمَّ اسْتَهِمَا ثُمَّ لْيُحَلِّلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَهُ» . وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «إِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا برأيي فِيمَا لم يُنزَلْ عليَّ فِيهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
انگریزی ترجمہ
Hadrat Umm Salama told on the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)’s authority about two men, who brought a dispute before him about inheritances, but had no proof beyond their claim. He said, “If I give a decision in favour of one respecting what is rightly his brother’s I am allotting him only a portion of hell.” Thereupon both the men said, “Messenger of God, this right of mine may go to my brother,” but he replied, "No; rather go and divide it up, aiming at what is right, then draw lots, and let each of you consider the other to have what is legitimately his.” In a version he said, “I judge between you only by my opinion regarding matters about which no revelation has been sent down to me.” Abu Dawud transmitted it.
اردو ترجمہ
حضرت اُمّ المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ دو آدمیوں نے میراث کے معاملے میں آپ کے سامنے مقدمہ پیش کیا جن کے پاس دعویٰ کے سوا کوئی ثبوت نہ تھا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے حق میں میں اس کے بھائی کے حق میں سے کچھ فیصلہ کر دوں تو میں اس کے لیے آگ کا ٹکڑا کاٹ رہا ہوں۔ دونوں آدمیوں نے ہر ایک نے کہا: یا رسول اللہ! میرا یہ حق میرے ساتھی کا ہے۔ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ جاؤ اور آپس میں تقسیم کرو اور حق کا خیال رکھو، پھر قرعہ اندازی کرو اور تم میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کو حلال کر دے۔ ایک روایت میں ہے: فرمایا: میں تمہارے درمیان اپنی رائے سے فیصلہ کرتا ہوں ان معاملات میں جن کے بارے میں مجھ پر وحی نازل نہیں ہوئی۔ (حضرت ابوداؤد)
