عربی (اصل)
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَا مِنْ رَجُلٍ يَلِي أَمْرَ عَشَرَةٍ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَّا أتاهُ اللَّهُ عزَّ وجلَّ مغلولاً يومَ القيامةِ يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ فَكَّهُ بِرُّهُ أَوْ أَوْبَقَهُ إِثْمُهُ أَوَّلُهَا مَلَامَةٌ وَأَوْسَطُهَا نَدَامَةٌ وَآخِرُهَا خِزْيٌ يومَ القيامةِ»
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Umama reported the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) as saying, “No one will rule ten people or more without coming to God who is great and glorious on the day of resurrection with his hand chained to his neck and being set free by his goodness, or brought to destruction by his sin. The beginning of it merits blame, its middle produces regret, and its end is disgrace on the day of resurrection.” Ahmad.
اردو ترجمہ
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص دس یا اس سے زیادہ آدمیوں کے کسی معاملے کا ذمہ دار ہو تو قیامت کے دن اللہ عزوجل کے پاس اس حال میں آئے گا کہ اس کا ہاتھ اس کی گردن سے بندھا ہوگا، اس کی نیکی اسے آزاد کرے گی یا اس کا گناہ اسے ہلاک کرے گا۔ اس کا آغاز ملامت ہے، درمیان ندامت ہے اور آخر قیامت کے دن ذلت ہے۔ (مسند احمد)
