عربی (اصل)
وَعَنْ ��َمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: خَطَبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الفتحِ ثمَّ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ وَمَا كَانَ مِنْ حِلْفٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنَّ الْإِسْلَامَ لَا يَزِيدُهُ إِلَّا شِدَّةً الْمُؤْمِنُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ يُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَدْنَاهُمْ وَيَرُدُّ عليهِم أقْصاهم يَردُّ سراياهم على قعيدتِهم لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ دِيَةُ الْكَافِرِ نِصْفُ دِيَةِ الْمُسْلِمِ لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلَّا فِي دُورِهِمْ» . وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «دِيَةُ الْمُعَاهِدِ نِصْفُ دِيَةِ الْحُرِّ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
انگریزی ترجمہ
‘Amr b. Shu'aib, on his father’s authority, said his grandfather told that God’s Messenger said in the course of an address in the year of the Conquest, “O people, there is no confederacy in Islam, but such as existed in pre-Islamic times is made still stronger by Islam. The believers are one band against others, the lowliest of them gives protection as from all, the most distant of them sends back spoil to them,* their expeditions sending it back to those who are at home. A believer shall not be killed for an infidel. The blood wit for an infidel is half that for a Muslim. There is to be no bringing in of animals to be assessed for zakat, neither are they to be removed to their pastures, but the sadaqat are to be received only in their dwellings.”, And in a version he said, “The blood wit for one with whom a covenant has been made is half that for a freeman.” Abu Dawud transmitted it. * Here the context seems to require this translation but cf. p. 739, n 1.
اردو ترجمہ
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے سال خطبہ دیا اور فرمایا: «اے لوگو! اسلام میں کوئی حلف (پرانا معاہدہ) نہیں، البتہ جاہلیت کا جو حلف تھا اسے اسلام مزید مضبوط ہی کرتا ہے۔ مومن دوسروں کے مقابلے میں ایک ہاتھ ہیں، ان میں سے ادنیٰ بھی پناہ دے سکتا ہے اور دور والا قریب والوں کو واپس کرتا ہے، ان کی سرایا اپنے پیچھے رہنے والوں کو (مال غنیمت) واپس کرتی ہیں۔ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔ کافر کی دیت مسلمان کی دیت سے آدھی ہے۔ جانوروں کو (زکاۃ کے لیے) لا کر نہ جمع کیا جائے اور نہ ان کی چراگاہوں سے ہٹایا جائے بلکہ زکاۃ ان کے گھروں میں وصول کی جائے۔» ایک روایت میں ہے: «معاہد کی دیت آزاد کی آدھی دیت ہے۔» حضرت ابوداؤد نے اسے روایت کیا۔
