عربی (اصل)
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُنَاسٍ مِنْ جُهَيْنَةَ فَأَتَيْتُ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ فَذَهَبْتُ أَطْعَنُهُ فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَطَعَنْتُهُ فَقَتَلْتُهُ فَجِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: «أقَتلتَه وقدْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَ�� فَعَلَ ذَلِكَ تَعَوُّذًا قَالَ: «فهَلاَّ شقَقتَ عَن قلبه؟» وَفِي رِوَايَةِ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟» . قَالَهُ مِرَارًا. رَوَاهُ مُسلم
انگریزی ترجمہ
Hadrat Usama b. Zaid said:God’s Messenger sent us to some people of Juhaina, and I attacked one of them and was about to spear him when he said, “There is no god but God.” I then speared him and killed him, after which I went and told the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). He said, “Did you kill him when he had testified that there is no god but God?” I replied, “Messenger of God, he did that only as a means to escape death.” He asked, “Why did you not split his heart?”* (Bukhari and Muslim.) *He is here rebuked for attributing motives to the man when he could not know his inner motive. Splitting the heart is a figure of speech for examining the inner motives. In the version of Jundub b. ‘Abdallah al-Bajali God’s Messenger is reported as saying several times, “How will you deal with ‘There is no god but God’ when it comes on the day of resurrection?” Muslim transmitted it.
اردو ترجمہ
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں جہینہ کے کچھ لوگوں کی طرف بھیجا۔ میں ان میں سے ایک آدمی کے پاس پہنچا اور اسے نیزے سے مارنے لگا تو اس نے کہا: لا الٰہ الا اللہ۔ پھر بھی میں نے اسے نیزے سے مار کر قتل کر دیا۔ جب میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بتایا تو فرمایا: «تو نے اسے قتل کر دیا حالانکہ اس نے لا الٰہ الا اللہ کی گواہی دی تھی؟» میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے تو جان بچانے کے لیے ایسا کیا تھا۔ فرمایا: «تو نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا؟» حضرت جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بار بار فرمایا: «قیامت کے دن جب لا الٰہ الا اللہ آئے گی تو تم کیا کرو گے؟» مسلم نے اسے روایت کیا۔
