عربی (اصل)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ» . فَقَامَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَقَالَ: أَفِي كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " لَوْ قُلْتُهَا: نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَعْمَلُوا بِهَا وَلَمْ تَسْتَطِيعُوا وَالْحَجُّ مَرَّةٌ فَمَنْ زَادَ فَتَطَوُّعٌ ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيّ والدارمي
انگریزی ترجمہ
Hadrat Ibn ‘Abbas reported God’s messenger as saying, “God has prescribed the pilgrimage for you people." Al-Aqra' b. Habis then got up and asked whether it was to be performed annually, to which God’s messenger replied that if he were to tell them that it was, it would become obligatory, and if it did they would not keep it nor be able to do so, adding, “The pilgrimage should be performed once, and if anyone does it oftener he performs supererogatory act." Ahmad, Nasa'i and Darimi transmitted it.
اردو ترجمہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے۔ اقرع بن حابس کھڑے ہوئے اور عرض کیا: کیا ہر سال یا رسول اللہ؟ آپ نے فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتا تو واجب ہو جاتا اور اگر واجب ہو جاتا تو تم اس پر عمل نہ کرتے اور نہ طاقت رکھتے۔ حج ایک بار ہے جو زیادہ کرے وہ نفل ہے۔ (احمد، نسائی، دارمی)
