عربی (اصل)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا فَكَثُرَ فِيهِ لَغَطُهُ فَقَالَ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالْبَيْهَقِيّ فِي الدَّعْوَات الْكَبِير
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Huraira reported God’s messenger as saying that if anyone sits in an assembly where there is much clamour* and says before getting up to leave, “Glory be to Thee, O God, and I begin with praise of Thee; I testify that there is no god but Thou; I ask Thy pardon and turn to Thee in repentance,” he will be forgiven for what took place in that assembly where he was. *Or, ‘wicked talk,’ or, 'meaningless talk' Tirmidhi and Baihaqi in ad-Da'awat al-kabir, transmitted it.
اردو ترجمہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور اس میں بہت لغو باتیں ہوں، پھر اٹھنے سے پہلے کہے: سبحانک اللہم و بحمدک أشہد أن لا إلہ إلا أنت أستغفرک و أتوب إلیک (اے اللہ! تو پاک ہے اور تیری حمد کے ساتھ، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں) تو اس مجلس میں جو کچھ ہوا وہ معاف کر دیا جائے گا۔ (ترمذی، بیہقی فی الدعوات الکبیر)
