عربی (اصل)
وَعَنْ ثَوْبَانَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْعَبْدَ لَيَلْتَمِسُ مَرْضَاةَ اللَّهِ فَلَا يَزَالُ بِذَلِكَ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لجبريل: إِن فلَانا عَبدِي يتلمس أَنْ يُرْضِيَنِي أَلَا وَإِنَّ رَحْمَتِي عَلَيْهِ فَيَقُولُ جِبْرِيلُ: رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى فُلَانٍ وَيَقُولُهَا حَمَلَةُ العرشِ ويقولُها مَن حَولهمْ حَتَّى يَقُولُهَا أَهْلُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ ثُمَّ تَهْبِطُ لَهُ إِلى الأَرْض ". رَوَاهُ أَحْمد
انگریزی ترجمہ
Hadrat Thauban reported the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) as saying that a servant seeks to please God and keeps on doing so, then God who is great and glorious says to Gabriel, “My servant so and so seeks to please me, therefore my mercy had descended on him.” Gabriel says, “God’s mercy has descended on so and so,” and the bearers of the Throne and those who are around them say it until the inhabitants of the seven heavens say it, after which it comes down to him on the earth. Ahmad transmitted it.
اردو ترجمہ
حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک بندہ اللہ کی رضا تلاش کرتا رہتا ہے اور اس پر قائم رہتا ہے۔ پھر اللہ عزّ وجلّ جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے: فلاں میرا بندہ میری رضا حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، خبردار! میری رحمت اس پر ہے۔ تو جبرائیل علیہ السلام کہتے ہیں: فلاں پر اللہ کی رحمت ہو۔ اور عرش اٹھانے والے بھی یہی کہتے ہیں اور ان کے آس پاس والے بھی یہی کہتے ہیں یہاں تک کہ ساتوں آسمانوں والے یہی کہتے ہیں پھر یہ رحمت اس کے لیے زمین پر اترتی ہے۔ (احمد)
