عربی (اصل)
عَنْ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ عِشَاءً فَإِذَا رَجُلٌ يَقْرَأُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَقُولُ: هَذَا مُرَاءٍ؟ قَالَ: «بَلْ مُؤْمِنٌ مُنِيبٌ» قَالَ: وَأَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ يَقْرَأُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَسَمَّعُ لِقِرَاءَتِهِ ثُمَّ جَلَسَ أَبُو مُوسَى يَدْعُو فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَحَدًا صَمَدًا لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أُحُدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُخْبِرُهُ بِمَا سَمِعْتُ مِنْكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ» فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي: أَنْتَ الْيَوْمَ لِي أَخٌ صَدِيقٌ حَدَّثْتَنِي بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ رزين
انگریزی ترجمہ
Buraida said that once when he entered the mosque with God’s messenger at the time of the evening prayer a man was reciting with a loud voice, so he asked God’s messenger whether he thought the man was hypocritical, but he replied’ “No, he is a penitent believer.” He said that Hadrat Abu Musa al-Ash‘ari was * reciting in a loud voice, and God’s messenger began to listen to his recitation. Afterwards Hadrat Abu Musa sat down and engaged in supplication saying, “O God, I call Thee to witness that Thou art God than whom there is no god, One, to whom men repair, who hast not begotten and hast not been begotten, and to whom no one is equal.” God’s messenger then said, “He has asked God using His name when asked by which He gives, and when supplicated by which He answers.” Buraida asked God’s messenger whether he should tell him what he had heard him say, and when he agreed he told him what God’s messenger had said, and Hadrat Abu Musa said to him, “Today you are a true brother to me, having told me the words of God’s messenger.” *This word is not in the text, but Mirqat explains that it must be understood as Hadrat Abu Musa as not the man referred to above. Razin transmitted it.
اردو ترجمہ
حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عشاء کے وقت مسجد میں داخل ہوا تو ایک شخص بلند آواز سے قرآن پڑھ رہا تھا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ ریاکار ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں بلکہ یہ رجوع کرنے والا مومن ہے۔ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بلند آواز سے تلاوت کر رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان کی تلاوت غور سے سننے لگے۔ پھر حضرت ابو موسیٰ بیٹھ کر دعا کرنے لگے اور کہا: اے اللہ! میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ تو اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو احد ہے، صمد ہے، جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس نے اللہ سے اس نام سے مانگا ہے جس سے مانگا جائے تو عطا فرمائے اور جس سے پکارا جائے تو قبول فرمائے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اسے وہ بات بتا دوں جو آپ سے سنی ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ تو میں نے حضرت ابو موسیٰ کو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان بتایا تو انہوں نے مجھ سے کہا: آج تم میرے سچے بھائی ہو، تم نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث سنائی۔ (رزین)
