عربی (اصل)
وَعَن عبد الله بن يسر قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ فَقَالَ: «طُوبَى لِمَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ( «ن تُفَارِقَ الدُّنْيَا وَلِسَانُكَ رَطْبٌ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ» رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ
انگریزی ترجمہ
‘Abdallah b. Busr told of a desert Arab coming to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and asking who was best among men, to which he replied, “Happy is he whose life is long and whose deeds are good.” He asked God’s messenger what deed was most excellent, and he replied, “That you should leave the world with the mention of God fresh on your tongue.” Ahmad and Tirmidhi transmitted it.
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ایک بدوی نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟ فرمایا: خوش نصیب ہے وہ جس کی عمر لمبی ہو اور عمل اچھا ہو۔ عرض کیا: یا رسول اللہ! کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ فرمایا: تم اس حال میں دنیا سے جاؤ کہ تمہاری زبان اللہ کے ذکر سے تر ہو۔ (احمد و ترمذی)
