عربی (اصل)
عَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قَالَ: جَلَست فِي عِصَابَةٍ مِنْ ضُعَفَاءِ الْمُهَاجِرِينَ وَإِنَّ بَعْضَهُمْ لِيَسْتَتِرُ بِبَعْضٍ مِنَ الْعُرْيِ وَقَارِئٌ يَقْرَأُ عَلَيْنَا إِذْ جَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ عَلَيْنَا فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكَتَ الْقَارِئُ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «مَا كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ؟» قُلْنَا: كُنَّا نَسْتَمِعُ إِلَى كتاب الله قَالَ فَقَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ أُمِرْتُ أَنْ أَصْبِرَ نَفْسِي مَعَهُمْ» . قَالَ فَجَلَسَ وَسَطَنَا لِيَعْدِلَ بِنَفْسِهِ فِينَا ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا فَتَحَلَّقُوا وَبَرَزَتْ وُجُوهُهُمْ لَهُ فَقَالَ: «أَبْشِرُوا يَا مَعْشَرَ صَعَالِيكِ الْمُهَاجِرِينَ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَاءِ النَّاسِ بِنصْف يَوْم وَذَاكَ خَمْسمِائَة سنة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
انگریزی ترجمہ
Abū Sa'īd al-Khudrī said:I sat with a company of the poor*members of the Emigrants who were sitting close together because of lack of clothing while a reader was reciting to us. God’s messenger came along and stood beside us, and when he did so the reader stopped and gave him a salutation. He asked what we were doing, and when we told him we were listening to God’s Book he said, “Praise be to God who has put among my people those with whom I have been ordered to keep myself.”(Qur’ān,18:28) He then sat down among us so as to be like one of us, and when he had made a sign with his hand they sat in a circle with their faces turned towards him, and he said, “Rejoice, you group of poor Emigrants, in the announcement that you will have perfect light on the day of resurrection. You will enter paradise half a day before the rich, and that is five hundred years.” *Lit. 'Weak'. This is said to refer to the people who lived in the Suffa Abū Dāwūd transmitted it.
اردو ترجمہ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں مہاجرین کے غریب لوگوں کی ایک جماعت میں بیٹھا تھا۔ ان میں سے بعض لباس نہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کی آڑ لے رہے تھے اور ایک قاری ہمیں پڑھ کر سنا رہا تھا۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے پاس کھڑے ہوئے۔ جب آپ کھڑے ہوئے تو قاری خاموش ہو گیا۔ آپ نے سلام کیا پھر فرمایا: تم کیا کر رہے تھے؟ ہم نے عرض کیا: کتاب اللہ سن رہے تھے۔ فرمایا: اللہ کا شکر ہے جس نے میری امت میں ایسے لوگ بنائے جن کے ساتھ مجھے صبر کرنے کا حکم ہوا ہے۔ پھر ہمارے درمیان بیٹھ گئے تاکہ ہم میں برابر ہوں، پھر ہاتھ سے اشارہ کیا تو سب حلقہ بنا کر بیٹھ گئے اور چہرے آپ کی طرف تھے۔ فرمایا: خوشخبری ہو اے غریب مہاجرین! قیامت کے دن مکمل نور کی بشارت ہو۔ تم لوگوں کے دولتمندوں سے آدھا دن پہلے جنت میں داخل ہوگے اور وہ پانچ سو سال ہے۔ (ابو داؤد)
