عربی (اصل)
وَعَن خَالِد بن معدان قَالَ: اقرؤوا المنجية وَهِي (آلم تَنْزِيل) فَإِن بَلَغَنِي أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَقْرَؤُهَا مَا يَقْرَأُ شَيْئًا غَيْرَهَا وَكَانَ كَثِيرَ الْخَطَايَا فَنَشَرَتْ جَنَاحَهَا عَلَيْهِ قَالَتْ: رَبِّ اغْفِرْ لَهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُكْثِرُ قِرَاءَتِي فَشَفَّعَهَا الرَّبُّ تَعَالَى فِيهِ وَقَالَ: اكْتُبُوا لَهُ بِكُلِّ خَطِيئَةٍ حَسَنَةٍ وَارْفَعُوا لَهُ دَرَجَةً ". وَقَالَ أَيْضًا: " إِنَّهَا تُجَادِلُ عَنْ صَاحِبِهَا فِي الْقَبْرِ تَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ مِنْ كِتَابِكَ فَشَفِّعْنِي فِيهِ وَإِنْ لَمْ أَكُنْ مِنْ كِتَابِكَ فَامْحُنِي عَنْهُ وَإِنَّهَا تَكُونُ كَالطَّيْرِ تَجْعَلُ جَنَاحَهَا عَلَيْهِ فَتَشْفَعُ لَهُ فَتَمْنَعُهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْر " وَقَالَ فِي (تبَارك) مثله. وَكَانَ خَالِد لَا يَبِيتُ حَتَّى يَقْرَأَهُمَا. وَقَالَ طَاوُوسُ: فُضِّلَتَا عَلَى كُلِّ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ بِسِتِّينَ حَسَنَةً. رَوَاهُ الدَّارمِيّ
انگریزی ترجمہ
Khālid b. Ma'dān said:Recite the rescuer, which is A.L.M. The sending down (Qur’ān, 32) for I have heard that a man who had committed many sins used to recite it and nothing else. It spread its wing over him and said, “My Lord, forgive him, for he often used to recite me so the Lord most high made it an intercessor for him and said, “Record for him a good deed and raise him a degree in place of every sin.” Khālid said also: It will dispute on behalf of the one who recites it when he is in his grave saying, “O God, if I am a part of Thy Book, make me an intercessor for him; but if I am not a part of Thy Book, blot me out of it.” It will be like a bird putting its wing on him, it will intercede for him and will protect him from the punishment in the grave. He said the same about “Blessed is He.” (Qur’ān, 67) Khālid did not go to sleep at night till he had recited them. Tā’ūs said they were given sixty virtues more than any other sūra in the Qur’ān. Dārimī transmitted it.
اردو ترجمہ
حضرت خالد بن معدان فرماتے ہیں: منجیہ (نجات دینے والی) سورت پڑھو جو الم تنزیل (سورۃ السجدہ) ہے۔ مجھے معلوم ہوا کہ ایک شخص جو کثرت سے گناہ کرتا تھا، اسے پڑھتا تھا اور اس کے سوا کچھ نہ پڑھتا تھا۔ اس سورت نے اس پر اپنا بازو پھیلایا اور کہا: اے میرے رب! اسے بخش دے کیونکہ یہ مجھے بکثرت پڑھتا تھا۔ تو رب تعالیٰ نے اسے شفاعت قبول فرمایا اور فرمایا: اس کے ہر گناہ کے بدلے نیکی لکھو اور ایک درجہ بلند کرو۔ اور یہ بھی فرمایا کہ یہ سورت قبر میں اپنے پڑھنے والے کی طرف سے جھگڑتی ہے اور کہتی ہے: اے اللہ! اگر میں تیری کتاب سے ہوں تو مجھے اس کی شفاعت کرنے دے، اور اگر تیری کتاب سے نہیں ہوں تو مجھے مٹا دے۔ یہ پرندے کی طرح اس پر بازو پھیلاتی ہے اور اس کی شفاعت کرتی ہے اور عذاب قبر سے بچاتی ہے۔ اور تبارک (سورۃ الملک) کے بارے میں بھی ایسا ہی فرمایا۔ حضرت خالد رات کو ان دونوں سورتوں کو پڑھے بغیر نہ سوتے۔ حضرت طاؤس نے فرمایا: ان دونوں کو قرآن کی ہر سورت پر ساٹھ نیکیوں کی فضیلت دی گئی ہے۔ (دارمی)
