عربی (اصل)
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: أَصْبَحَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِلَالًا فَقَالَ: «بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ مَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَطُّ إِلَّا سَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي» . قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَذَّنْتُ قَطُّ إِلَّا صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ وَمَا أَصَابَنِي حَدَثٌ قَطُّ إِلَّا تَوَضَّأْتُ عِنْدَهُ وَرَأَيْتُ أَنَّ لِلَّهِ عَلَيَّ رَكْعَتَيْنِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِهِمَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
انگریزی ترجمہ
Buraida told how one morning God’s Messenger called Hadrat Bilal and said, "What did you do to get to paradise before me? I have never entered paradise without hearing the rustling of your garments in front of me.” He replied, "Messenger of God, I have never called the adhan without praying two rak'as, and no impurity has ever happened to me without my performing ablution on the spot and thinking that I owed God two rak'as.” God’s Messenger said, "It is because of them.” Tirmidhi transmitted it.
اردو ترجمہ
حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا اور فرمایا: اے حضرت بلال! تم نے کس عمل سے جنت میں مجھ سے آگے سبقت حاصل کی؟ جب بھی میں جنت میں داخل ہوا تو اپنے آگے تمہارے جوتوں کی چاپ سنی۔ حضرت بلال نے عرض کیا: جب بھی میں نے اذان دی تو دو رکعت نماز پڑھی، اور جب بھی مجھ سے حدث ہوا (وضو ٹوٹا) تو فوراً وضو کیا اور دو رکعت نماز پڑھنا ضروری سمجھا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہی دو (عملوں) کی وجہ سے۔ (ترمذی)
