عربی (اصل)
عَن نَافِع أَن ابْن عمر جَاءَهُ رجل فَقَالَ إِنَّ فُلَانًا يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ فَقَالَ لَهُ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ فَإِنْ كَانَ قَدْ أَحْدَثَ فَلَا تُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول يكون فِي هَذِه الْأمة أَو فِي أمتِي الشَّك مِنْهُ خَسْفٌ أَوْ مَسْخٌ أَوْ قَذْفٌ فِي أَهْلِ الْقَدَرِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ
انگریزی ترجمہ
Nafi' told how a man came to Ibn ‘Umar with a message that so and so sent him a greeting. He replied that he had heard he had introduced an innovation and that if that were so, he was not to convey his greeting to him, for he had heard God’s messenger say, “Among my people,” or “among this people the believers in freewill will be swallowed up and metamorphosed or pelted.” Tirmidhi, Abu Dawud, and Ibn Majah transmitted it, and Tirmidhi said this is a hasan sahih gharib tradition.
اردو ترجمہ
نافع فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس کسی کا سلام لے کر آیا۔ انہوں نے فرمایا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس نے بدعت ایجاد کی ہے، اگر ایسا ہے تو اسے میرا سلام نہ پہنچاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا: میری امت میں یا اس نے فرمایا: اس امت میں زمین میں دھنسایا جانا، شکلوں کا مسخ ہونا اور پتھروں کی بارش ہو گی اور یہ سب تقدیر کا انکار کرنے والوں پر ہو گا۔ (ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ)
