عربی (اصل)
قَالَ مَالِكٌ وَبَلَغَنِي عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، مِثْلُ ذَلِكَ . قَالَ مَالِكٌ مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ نَذْرٌ مِنْ رَقَبَةٍ يُعْتِقُهَا أَوْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ بَدَنَةٍ فَأَوْصَى بِأَنْ يُوَفَّى ذَلِكَ عَنْهُ مِنْ مَالِهِ فَإِنَّ الصَّدَقَةَ وَالْبَدَنَةَ فِي ثُلُثِهِ وَهُوَ يُبَدَّى عَلَى مَا سِوَاهُ مِنَ الْوَصَايَا إِلاَّ مَا كَانَ مِثْلَهُ وَذَلِكَ أَنَّهُ لَيْسَ الْوَاجِبُ عَلَيْهِ مِنَ النُّذُورِ وَغَيْرِهَا كَهَيْئَةِ مَا يَتَطَوَّعُ بِهِ مِمَّا لَيْسَ بِوَاجِبٍ وَإِنَّمَا يُجْعَلُ ذَلِكَ فِي ثُلُثِهِ خَاصَّةً دُونَ رَأْسِ مَالِهِ لأَنَّهُ لَوْ جَازَ لَهُ ذَلِكَ فِي رَأْسِ مَالِهِ لأَخَّرَ الْمُتَوَفَّى مِثْلَ ذَلِكَ مِنَ الأُمُورِ الْوَاجِبَةِ عَلَيْهِ حَتَّى إِذَا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ وَصَارَ الْمَالُ لِوَرَثَتِهِ سَمَّى مِثْلَ هَذِهِ الأَشْيَاءِ الَّتِي لَمْ يَكُنْ يَتَقَاضَاهَا مِنْهُ مُتَقَاضٍ فَلَوْ كَانَ ذَلِكَ جَائِزًا لَهُ أَخَّرَ هَذِهِ الأَشْيَاءَ حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ مَوْتِهِ سَمَّاهَا وَعَسَى أَنْ يُحِيطَ بِجَمِيعِ مَالِهِ فَلَيْسَ ذَلِكَ لَهُ .
انگریزی ترجمہ
Malik said, "I have heard the same from Sulayman ibn Yasar." Malik said, "If someone dies and has a vow to fulfil involving freeing a slave, or fasting, or giving sadaqa, or giving a sacrificial animal, and he makes a bequest that his vow should be fulfilled from his estate, then the sadaqa and the sacrificial animal are taken from the third of his estate, and that takes priority over other bequests, except those of a similar nature. This is because what is obligatory on the dead person is not like a bequest, but rather it is like a debt."
اردو ترجمہ
امام مالک فرماتے ہیں: سلیمان بن یسار سے بھی ایسا ہی مروی ہے۔ امام مالک فرماتے ہیں: جو شخص فوت ہو اور اس پر غلام آزاد کرنے، روزے، صدقے یا قربانی کی نذر ہو اور وصیت کرے کہ اس کے مال سے پوری کی جائے تو صدقہ اور قربانی اس کے تہائی مال سے ہوگی اور یہ دوسری وصیتوں پر مقدم ہوگی سوائے اسی قسم کی وصیتوں کے۔ اس لیے کہ میت پر واجب ذمہ داری اس کی وصیت جیسی نہیں بلکہ یہ قرض جیسی ہے۔
