عربی (اصل)
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَهْلَ الْعِلْمِ، يَقُولُونَ لاَ بَأْسَ بِصِيَامِ الدَّهْرِ إِذَا أَفْطَرَ الأَيَّامَ الَّتِي نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صِيَامِهَا وَهِيَ أَيَّامُ مِنًى وَيَوْمُ الأَضْحَى وَيَوْمُ الْفِطْرِ فِيمَا بَلَغَنَا . قَالَ وَذَلِكَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَىَّ فِي ذَلِكَ .
انگریزی ترجمہ
Yahya (upon him be peace) related to me from Malik that he used to hear the people of knowledge say,"There is no harm in fasting continuously as long as one breaks the fast on the days on which the Beloved Messenger of Allah forbade fasting, namely, the days of Mina, the day of Adha and the day of Fitr, according to what we have heard." Malik said, "This is what I like most out of what I have heard about the matter."
اردو ترجمہ
امام مالک نے اہل علم سے سنا کہ ہمیشہ روزے رکھنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ ان دنوں میں افطار کرے جن میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے روزے سے منع فرمایا ہے یعنی ایام منیٰ (تشریق)، عید الاضحیٰ اور عید الفطر کے دن، جہاں تک ہمیں معلوم ہوا ہے۔ فرمایا: اور یہ بات مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔
