عربی (اصل)
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَامِلاً، لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَتَبَ إِلَيْهِ يَذْكُرُ أَنَّ رَجُلاً مَنَعَ زَكَاةَ مَالِهِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ أَنْ دَعْهُ وَلاَ تَأْخُذْ مِنْهُ زَكَاةً مَعَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ وَأَدَّى بَعْدَ ذَلِكَ زَكَاةَ مَالِهِ فَكَتَبَ عَامِلُ عُمَرَ إِلَيْهِ يَذْكُرُ لَهُ ذَلِكَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ أَنْ خُذْهَا مِنْهُ .
انگریزی ترجمہ
Yahya (upon him be peace) related to me from Malik that he had heard that one of the administrators of Umar ibn Abd al-'Aziz wrote to him mentioning that a man had refused to pay zakat on his property. Umar wrote to the administrator and told him to leave the man alone and not to take any zakat from him when he took it from the other muslims. The man heard about this and the situation became unbearable for him, and after that he paid the zakat on his property. The administrator wrote to Umar and mentioned that to him, and Umar wrote back telling him to take the zakat from him.
اردو ترجمہ
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب نے دودھ پیا تو بھلا معلوم ہوا پوچھا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا جو لایا تھا وہ بولا کہ میں ایک پانی پر گیا تھا اور اس کا نام بیان کیا وہاں پر جانور زکوة کے پانی پی رہے تھے لوگوں نے ان کا دودھ نچوڑ کر مجھے دیا میں نے اپنی مشک میں رکھ لیا وہ یہی دودھ تھا جو آپ نے پیا تو حضرت عمر نے اپنا ہاتھ منہ میں ڈال کر قے کی ۔ امام مالک کو پہنچا کہ ایک عامل نے عمر بن عبدالعزیز کو لکھا کہ ایک شخص اپنے مال کی زکوة نہیں دیتا عمر نے جواب میں لکھا کہ چھوڑ دے اس کو اور مسلمانوں کے ساتھ اور زکوة نہ لیا کر اس سے۔ یہ خبر اس شخص کو پہنچی اس کو برا معلوم ہوا اور اپنے مال کی زکوة ادا کر دی بعد اس کے عامل نے حضرت عمر کو اطلاع دی انہوں نے جواب میں لکھا کہ لے لے زکوة کو اس شخص سے ۔
