عربی (اصل)
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، تَكَارَى أَرْضًا فَلَمْ تَزَلْ فِي يَدَيْهِ بِكِرَاءٍ حَتَّى مَاتَ قَالَ ابْنُهُ فَمَا كُنْتُ أُرَاهَا إِلاَّ لَنَا مِنْ طُولِ مَا مَكَثَتْ فِي يَدَيْهِ حَتَّى ذَكَرَهَا لَنَا عِنْدَ مَوْتِهِ فَأَمَرَنَا بِقَضَاءِ شَىْءٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنْ كِرَائِهَا ذَهَبٍ أَوْ وَرِقٍ .
انگریزی ترجمہ
Malik related to me that he had heard that Abd ar-Rahman ibn Awf rented land, and he continued to have it in his possession until he died. His son said, "I thought that it was ours because of the length of time which it had remained in his hands, until he mentioned it to us at his death. He ordered us to pay some rent which he owed in gold or silver."
اردو ترجمہ
ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ سے پوچھا کہ کھتیوں کا کرایہ دینا کیسا ہے انہوں نے کہا کچھ قباحت نہیں سونے یا چاندی کے بدلے میں ابن شہاب نے کہا کیا تم کو رافع بن خدیج کی حدیث نہیں پہنچی سام نے کہا رافع نے زیادتی کی اگر میرے پاس زمین مزروعہ ہوتی تو میں اس کو کرایہ دیتا ۔ عبدالرحمن بن عورف نے ایک زمین کرایہ کو لی ہمیشہ ان کے پاس رہی مرے دم تک ان کے بیٹے نے کہا ہم اس کو اپنی ملک سمجھتے تھے اس وجہ سے کہ معت تک ہمارے پاس رہی جب عبدالرحمن مرنے لگے تو انہوں نے کہا وہ کرایہ کی ہے اور حکم کیا کہ کرایہ ادا کرنے کا جو ان پر باقی تھا سونے یا چاندی کی قسم سے ۔
