عربی (اصل)
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُمَا كَانَا يَقُولاَنِ فِي الْمَرْأَةِ يُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا إِنَّهَا إِذَا خَشِيَتْ عَلَى بَصَرِهَا مِنْ رَمَدٍ أَوْ شَكْوٍ أَصَابَهَا إِنَّهَا تَكْتَحِلُ وَتَتَدَاوَى بِدَوَاءٍ أَوْ كُحْلٍ وَإِنْ كَانَ فِيهِ طِيبٌ . قَالَ مَالِكٌ وَإِذَا كَانَتِ الضَّرُورَةُ فَإِنَّ دِينَ اللَّهِ يُسْرٌ .
انگریزی ترجمہ
Yahya (upon him be peace) related to me from Malik that he had heard that Salim ibn Abdullah and Sulayman ibn Yasar said that if a woman whose husband had died feared that an inflammation of her eyes might affect her sight or that some complaint might befall her, she should put kohl on and seek a remedy with kohl or some other cure even if it had perfume in it. Malik said, "If there is a necessity, the deen of Allah is ease."
اردو ترجمہ
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ اور حضرت ام المومنین حفصة سے رواتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو عورت ایمان لائے اللہ پر اور پچھلے دن پر اس کو درست نہیں سوگ کرنا کسی مردے پر تین راتوں سے زیادہ مگر خاوند پر ۔ حضرت اُمّ المؤمنین ام سلمہ نے ایک عورت سے کہا جو سوگ میں تھی پنی خاوند کے اور اس کی آنکھ دکھتی تھی رات کو وہ سرمہ لگالے جس سے آنگھ روشن ہو اور دن کو پونچھ ڈالے ۔ سالم بن عبداللہ اور سلیمان بن یسار کہتے تھے جس عورت کا خاوند مر جائے اور اس کو آنکھ کے آشوب یا کسی اور دکھ کی تکلیف ہو وہ سرمہ لگائے اور دو کرے اگرچہ اس میں خوشبو ہو ۔ کہا مالک نے جب ضرورت ہو تو اللہ جل جلالہ کا دین آسان ہے ۔
