عربی (اصل)
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ بِنْتَ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ الأَنْصَارِيِّ فَكَانَتْ عِنْدَهُ حَتَّى كَبِرَتْ فَتَزَوَّجَ عَلَيْهَا فَتَاةً شَابَّةً فَآثَرَ الشَّابَّةَ عَلَيْهَا فَنَاشَدَتْهُ الطَّلاَقَ فَطَلَّقَهَا وَاحِدَةً ثُمَّ أَمْهَلَهَا حَتَّى إِذَا كَادَتْ تَحِلُّ رَاجَعَهَا ثُمَّ عَادَ فَآثَرَ الشَّابَّةَ فَنَاشَدَتْهُ الطَّلاَقَ فَطَلَّقَهَا وَاحِدَةً ثُمَّ رَاجَعَهَا ثُمَّ عَادَ فَآثَرَ الشَّابَّةَ فَنَاشَدَتْهُ الطَّلاَقَ فَقَالَ مَا شِئْتِ إِنَّمَا بَقِيَتْ وَاحِدَةٌ فَإِنْ شِئْتِ اسْتَقْرَرْتِ عَلَى مَا تَرَيْنَ مِنَ الأُثْرَةِ وَإِنْ شِئْتِ فَارَقْتُكِ . قَالَتْ بَلْ أَسْتَقِرُّ عَلَى الأُثْرَةِ . فَأَمْسَكَهَا عَلَى ذَلِكَ وَلَمْ يَرَ رَافِعٌ عَلَيْهِ إِثْمًا حِينَ قَرَّتْ عِنْدَهُ عَلَى الأُثْرَةِ .
انگریزی ترجمہ
Yahya (upon him be peace) related to me from Malik from Ibn Shihab that Rafi ibn Khadij married the daughter of Muhammad ibn Maslama al-Ansari. She was with him until she grew older, and then he married a young girl and preferred the young girl to her. She begged him to divorce her, so he divorced her and then he gave her time until she had almost finished her idda period and then he returned and still preferred the young girl. She therefore asked him to divorce her. He divorced her once, and then returned to her, and still preferred the young girl, and she asked him to divorce her. He said, "What do you want? There is only one divorce left. If you like, continue and put up with what you see of preference, and if you like, I will separate from you." She said, "I will continue in spite of the preference." He kept her in spite of that. Rafi did not see that he had done any wrong action when she remained with him in spite of preference.
اردو ترجمہ
رافع بن خدیج نے محمد بن مسلمہ انصاری کی بیٹی سے نکاح کیا وہ ان کے پاس رہیں جب بڑھیاں ہوئیں تو رافع نے ایک جوان عورت سے نکاح کیا تو اس کی طرف زیادہ مائل ہوئے تو بڑھیا عورت نے طلاق مانگی محمد بن مسلمہ نے ایک طلاق دے دی پھر جب عدت اس کی گرزنے لگی رجعت کرلی اور جوان عورت کی طرف مائل رہے پھر جب عدت گرنے لگی رجعت کرلی اور جوان عورت کی طرف مائل رہے بڑھیا نے پھر طلاق مانگی تب رافع بن خدیج نے کہا اب تجھے کیا منظور ہے ایک طلاق اور رہ گئی ہے اگر تو اس حال میں میرے پاس رہنا چاہتی ہے تو رہ اور اگر نہیں رہ سکتی تو میں تجھے چھوڑ دوں اس نے کہا مجھے اسی حال میں رہنا منظور ہے رافع نے اس کو رکھ لیا اور اپنے اوپر کچھ گناہ نہیں سمجھا۔
