عربی (اصل)
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، مِثْلُ ذَلِكَ . قَالَ مَالِكٌ فِي الأَمَةِ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ فَيُصِيبُهَا ثُمَّ يُرِيدُ أَنْ يُصِيبَ أُخْتَهَا إِنَّهَا لاَ تَحِلُّ لَهُ حَتَّى يُحَرِّمَ عَلَيْهِ فَرْجَ أُخْتِهَا بِنِكَاحٍ أَوْ عِتَاقَةٍ أَوْ كِتَابَةٍ أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ يُزَوِّجُهَا عَبْدَهُ أَوْ غَيْرَ عَبْدِهِ .
انگریزی ترجمہ
Yahya (upon him be peace) related to me from Malik that he had heard that az-Zubayr ibn al-Awwam said the like of that. Malik said that if a man had sexual relations with a female slave that he owned, and then he wanted to also have relations with her sister, the sister was not halal for a man until intercourse with the slave-girl had been made haram for him by marriage, setting free, kitaba, or the like of that - for instance, if he had married her to his slave or someone other than his slave.
اردو ترجمہ
امام مالک کو یہ روایت پہنچی کہ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی ایسا ہی فرمایا۔ امام مالک فرماتے ہیں: اگر کسی شخص کے پاس لونڈی ہو اور اس سے صحبت کی ہو پھر اس کی بہن سے صحبت کرنا چاہے تو وہ اس کے لیے حلال نہیں جب تک پہلی کی شرمگاہ اس پر حرام نہ ہو جائے نکاح یا آزادی یا مکاتبت وغیرہ کے ذریعے، یعنی اسے اپنے غلام یا کسی اور سے بیاہ دے۔
