عربی (اصل)
979 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلاَنِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، وَكَانَا جَمِيعًا؛ أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذلِكَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ، وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ يَتَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ
انگریزی ترجمہ
Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) forbade selling fruits before their ripeness is apparent. He was asked: "What does 'apparent' mean?" He said: "Until they redden." The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "If Allah prevents the fruits from ripening, with what right would any of you take his brother's money?"
اردو ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جب دو افراد نے خرید و فروخت کی، تو جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں انہیں (بیع کو توڑ دینے کا) اختیار باقی رہتا ہے، یہ اس صورت میں کہ دونوں ایک ہی جگہ رہیں، لیکن اگر ایک نے دوسرے کو پسند کرنے کے لیے کہا اور اس شرط پر بیع ہوئی اور دونوں نے بیع کا قطعی فیصلہ کر لیا، تو بیع اسی وقت منعقد ہو جائے گی، اسی طرح اگر دونوں فریق بیع کے بعد ایک دوسرے سے جدا ہو گئے اور بیع سے کسی فریق نے بھی انکار نہیں کیا، تو بھی بیع لازم ہو جاتی ہے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 979]
