عربی (اصل)
917 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ بَعْدَمَا أُنْزِلَ الْحِجَابُ، فَقُلْتُ: لاَ آذَنُ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ فِيهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ أَخَاهُ أَبَا الْقُعَيْسِ لَيْسَ هُوَ أَرْضَعَنِي، وَلكِنْ أَرْضَعَتْنِي امْرَأَةُ أَبِي الْقُعَيْسِ فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ اسْتَأْذَنَ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ حَتَّى أَسْتَأْذِنَكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَا مَنَعَكِ أَنْ تَأْذَنِينَ عَمُّكِ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ الرَّجُلَ لَيْسَ هُوَ أَرْضَعَنِي، وَلكِنْ أَرْضَعَتْنِي امْرَأَةُ أَبِي الْقُعَيْسِ فَقَالَ: ائْذَنِي لَهُ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ، تَرِبَتْ يَمِينُكِ
انگریزی ترجمہ
A'ishah (may Allah be pleased with her) narrated that Aflah, the brother of Abu al-Qu'ays, came and asked permission to enter her presence after the verse of hijab was revealed. She said: "I refused to let him in until I asked the Messenger of Allah (peace be upon him) about it. The Messenger of Allah (peace be upon him) said: 'Let him in, for he is your uncle.' I said: 'But the woman nursed me, not the man.' He said: 'He is your uncle, so let him enter.'" A'ishah said: "That was after the hijab was prescribed for us." A'ishah added: "What becomes unlawful by breastfeeding is what becomes unlawful by birth."
اردو ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد ابوقعیس کے بھائی افلح نے مجھ سے ملنے کی اجازت چاہی، لیکن میں نے کہلوا دیا کہ جب تک اس سلسلے میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے اجازت حاصل نہ کر لوں ان سے نہیں مل سکتی۔ میں نے سوچا کہ ان کے بھائی ابوقعیس نے مجھے تھوڑا ہی دودھ پلایا تھا، مجھے دودھ پلانے والی تو ابوقعیس کی بیوی تھیں۔ پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمتشریف لائے تو میں نے آپ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ابوقعیس کے بھائی افلح نے مجھ سے ملنے کی اجازت چاہی، لیکن میں نے کہلوا دیا کہ جب تک رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے اجازت نہ لے لوں ان سے ملاقات نہیں کر سکتی۔ اس پر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اپنے چچا سے ملنے سے تم نے کیوں انکار کر دیا؟“میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ابوقعیس نے مجھے تھوڑا ہی دودھ پلایا تھا، دودھ پلانے والی تو ان کی بیوی تھیں۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”انہیں اندر آنے کی اجازت دے دو، وہ تمہارے چچا ہیں۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الرضاع/حدیث: 917]
