عربی (اصل)
908 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي، فَأَبَتَّ طَلاَقِي، فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمنِ بْنَ الزَّبِيرِ، إِنَّمَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فَقَالَ: أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لاَ، حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَأَبُو بَكْرِ جَالِسٌ عِنْدَهُ، وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِالْبَابِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤذَنَ لَهُ فَقَالَ: يَا أَبَا بَكَرٍ أَلاَ تَسْمَعُ إِلَى هذِهِ، مَا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
انگریزی ترجمہ
Narrated Aisha: The wife of Rifa'ah al-Qurazi came to the Prophet (peace be upon him) and said: "I was with Rifa'ah, and he divorced me irrevocably. Then I married Abd al-Rahman ibn al-Zubayr, but he has nothing with him except like the fringe of a garment." He said: "Do you want to return to Rifa'ah? No, not until you taste his sweetness and he tastes yours." Abu Bakr was sitting with him, and Khalid ibn Sa'id ibn al-As was at the door waiting to be admitted. He said: "O Abu Bakr, do you not hear what this woman is openly saying before the Prophet (peace be upon him)?"
اردو ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میں رفاعہ کے نکاح میں تھی، پھر مجھے انہوں نے طلاق دے دی، قطعی طلاق دے دی، پھر میں نے عبدالرحمن بن زبیر سے شادی کر لی، لیکن ان کے پاس تو (شرمگاہ) اس کپڑے کی گانٹھ کی طرح ہے۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے دریافت فرمایا:”کیا تو رفاعہ کے پاس دوبارہ جانا چاہتی ہے؟ لیکن تو اس وقت تک اس سے شادی نہیں کر سکتی جب تک تو عبدالرحمن بن زبیر کا مزا نہ چکھ لے اور وہ تمہارا مزا نہ چکھ لیں۔“اس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خدمتِ نبوی میں موجود تھے اور سیدنا خالد بن سعید بن عاص دروازے پر اپنے لیے (اندر آنے کی) اجازت کا انتظار کر رہے تھے، انہوں نے کہا: ابوبکر! کیا اس عورت کو نہیں دیکھتے، نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے سامنے کس طرح کی باتیں زور زور سے کہہ رہی ہے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 908]
