عربی (اصل)
812 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: نَزَلْنَا الْمُزْدَلِفَةَ، فَاسْتَأْذَنَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَةُ أَنْ تَدْفَعَ قَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ، وَكَانَتْ امْرَأَةً بَطِيئَةً، فَأَذِنَ لَهَا؛ فَدَفَعَتْ قَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ، وَأَقَمْنَا حَتَّى أَصْبَحْنَا نَحْنُ، ثُمَّ دَفَعْنَا بِدَفْعِهِ؛ فَلأَنْ أَكُونَ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مَفْرُوحٍ بِهِ
انگریزی ترجمہ
Narrated Aishah (may Allah be pleased with her): "We stopped at Muzdalifah. Sawdah asked permission from the Prophet (peace be upon him) to depart before the rush of people, as she was a slow woman. He gave her permission. She departed before the rush of people, and we stayed until morning, then departed with him. I wish I had asked permission of the Messenger of Allah (peace be upon him) as Sawdah had asked — that would have been dearer to me than anything else."
اردو ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم نے مزدلفہ میں قیام کیا، نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے ام المومنین سودہ رضی اللہ عنہا کو لوگوں کے ازدحام سے پہلے روانہ ہونے کی اجازت دے دی تھی، وہ بھاری بھرکم بدن کی خاتون تھیں اس لیے آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اجازت دے دی، چنانچہ وہ ازدحام سے پہلے روانہ ہو گئیں لیکن ہم لوگ وہیں ٹھہرے رہے اور صبح کو آپصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ گئے، اگر میں بھی سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کی طرح آپصلی اللہ علیہ وسلمسے اجازت لیتی تو مجھ کو تمام خوشی کی چیزوں میں یہ بہت ہی پسند ہوتا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 812]
