عربی (اصل)
779 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ، فَقُلْتُ: مِنْ أَيْنَ قَالَ هذَا ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ: مِنْ قَوْلِ اللهِ تَعَالَى(ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ)، وَمِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَحِلُّوا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ قُلْتُ: إِنَّمَا كَانَ ذلِكَ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَرَاهُ قَبْلُ وَبَعْدُ
انگریزی ترجمہ
Narrated Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both): Ibn Jurayj said: "Ata' told me from Ibn Abbas: 'When one has performed Tawaf of the House, he has come out of Ihram.' I asked: 'From where did Ibn Abbas derive this?' He said: 'From the saying of Allah Most High: Then their place of sacrifice is at the Ancient House (Quran 22:33), and from the command of the Prophet (peace be upon him) to his Companions to come out of Ihram during the Farewell Pilgrimage.' I said: 'That was only after Arafah.' He said: 'Ibn Abbas considered it valid both before and after.'"
اردو ترجمہ
ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ مجھے عطاء رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے کہا: عمرہ کرنے والا صرف بیت اللہ کے طواف سے حلال ہو سکتا ہے، (ابن جریج کہتے ہیں کہ) میں نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ مسئلہ کہاں سے نکالا؟ انہوں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد﴿مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ﴾[سورة الحج: 33](پھر ان کا حلال ہونا پرانے گھر یعنی خانہ کعبہ کے پاس ہے) سے اور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے اس حکم کی وجہ سے جو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنے اصحاب کو حجۃ الوداع میں احرام کھول دینے کے لیے دیا تھا، میں نے کہا کہ یہ حکم تو عرفات میں ٹھہرنے کے بعد کے لیے ہے، عطاء رحمہ اللہ نے کہا لیکن ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ مذہب تھا کہ عرفات میں ٹھہرنے سے پہلے اور بعد ہر حال میں جب طواف کرے تو احرام کھول ڈالنا درست ہے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 779]
