عربی (اصل)
774 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ طَافَ بِالْبَيْتِ الْعُمْرَةَ، وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، أَيَأْتِي امْرَأَتَهُ فَقَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ(وَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ)
انگریزی ترجمہ
Narrated Ibn Umar (may Allah be pleased with them both): Amr ibn Dinar said: "We asked Ibn Umar about a man who performed Tawaf of the House for Umrah but did not perform Sa'y between Safa and Marwah — can he be intimate with his wife? He said: 'The Prophet (peace be upon him) came and performed Tawaf of the House seven times, prayed two Rak'ahs behind the Station (of Ibrahim), and performed Sa'y between Safa and Marwah.' And (he recited): 'In the Messenger of Allah you have an excellent example.' (Quran 33:21)"
اردو ترجمہ
عمرو بن دینار رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ہم نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا جس نے بیت اللہ کا طواف عمرہ کے لیے کیا لیکن صفا اور مروہ کی سعی نہیں کی، کیا ایسا شخص (بیت اللہ کے طواف کے بعد) اپنی بیوی سے صحبت کر سکتا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمتشریف لائے، آپ نے سات مرتبہ بیت اللہ کا طواف کیا اور مقامِ ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز پڑھی، پھر صفا اور مروہ کی سعی کی اور﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾[سورة الأحزاب: 21]”تمہارے لیے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی زندگی بہترین نمونہ ہے“۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 774]
