عربی (اصل)
7 صحيح حديث أبي أيوبَ الأَنصاريّ رضي الله عنه أَنَّ رجلاً قال: يا رسول الله أخبرني بعمل يُدْخِلُني الجنة، فقال القوم: مَا لَهُ مَالَه فقال رسولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَبٌ مَّا لَهُ فقال النبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تعبُدُ اللهَ لا تُشْرِكُ بهِ شيئًا وتُقيمُ الصَّلاةَ وَتُؤْتِي الزكاةَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ ذرْها قَال كأنّه كانَ عَلى رَاحِلَتِهِ
انگریزی ترجمہ
Abu Ayyub al-Ansari (may Allah be pleased with him) narrated that a man said: "O Messenger of Allah, tell me of a deed that will admit me to Paradise." The people said: "What is the matter with him? What is the matter with him?" The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "He has a need." The Prophet (peace be upon him) said: "You should worship Allah and not associate anything with Him, establish the prayer, pay zakat, and maintain family ties. Let go of the reins." It was as if the man was on his riding animal.
اردو ترجمہ
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کوئی ایسا عمل بتلائیں جو مجھے جنت میں لے جائے؟ اس پر لوگوں نے کہا کہ اسے کیا ہو گیا ہے؟ اسے کیا ہو گیا ہے؟ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”کیوں؟ کیا ہو گیا ہے؟ اس کی ضرورت ہے، اس لیے پوچھتا ہے۔“اس کے بعد آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ان سے فرمایا:”اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو، زکوٰۃ دیتے رہو اور صلہ رحمی کرتے رہو۔ بس یہ اعمال تجھ کو جنت میں لے جائیں گے۔ چل اب نکیل چھوڑ دے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 7]
