عربی (اصل)
677 صحيح حديث عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ الْحرِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ الرَّحْمنِ أَخْبَرَ مَرْوَانَ أَنَّ عَائِشَةَ وَأُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ أَهْلِهِ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ وَيَصُوم فَقَالَ مَرْوَانُ لِعَبْدِ الرَّحمنِ بْنِ الْحرِثِ: أُقْسِمُ بِاللهِ لَتُقَرِّ عَنَّ بِهَا أَبَا هُرَيْرَةَ، وَمَرْوَان يَوْمَئِذٍ عَلَى الْمَدِينَةِ؛ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَكَرِهَ ذلِكَ عَبْدُ الرَّحْمنِ ثُمَّ قُدِّرَ لَنَا أَنْ نَجْتَمِعَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، وَكَانَتْ لأَبِي هُرَيْرَةَ هُنَالِكَ أَرْضٌ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمنِ لأَبِي هرَيْرَةَ إِنِّي ذَاكِرٌ لَكَ أَمْرًا، وَلَوْلاَ مَرْوَانُ أَقْسَمَ عَلَيَّ فِيهِ لَمْ أَذْكرْهُ لَكَ فَذَكَرَ قَوْلَ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ؛ فَقَالَ: كَذلِكَ حَدَّثَنِي الْفَضْلُ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَهُوَ أَعْلَمُ
انگریزی ترجمہ
Narrated Aisha and Umm Salamah, from Abu Bakr ibn Abd al-Rahman ibn al-Harith ibn Hisham: Abu Hurairah used to give a ruling that whoever woke up in a state of major ritual impurity should not fast. Abu Bakr said: I mentioned that to Abd al-Rahman ibn al-Harith, and he came with me to Aisha and Umm Salamah. Umm Salamah said: "The Prophet (peace be upon him) used to wake up in a state of junub — not from a wet dream but from intercourse — and he would fast."
اردو ترجمہ
ابوبکر ابن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام روایت کرتے ہیں کہ انہیں ان کے والد عبدالرحمن نے خبر دی اور انہیں مروان نے خبر دی اور انہیں سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ (بعض مرتبہ) فجر ہوتی تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلماپنے اہل کے ساتھ جنبی ہوتے تھے، پھر آپ غسل کرتے اور آپ روزے سے ہوتے تھے۔ اور مروان بن حکم نے عبدالرحمن بن حارث سے کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو تم یہ حدیث صاف صاف سنا دو (کیونکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا فتویٰ اس کے خلاف تھا)، ان دنوں مروان سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے مدینہ کا حاکم تھا۔ ابوبکر نے کہا کہ عبدالرحمن نے اس بات کو پسند نہیں کیا، اتفاق سے ہم سب ایک مرتبہ ذوالحلیفہ میں جمع ہو گئے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وہاں کوئی زمین تھی، عبدالرحمن نے ان سے کہا کہ آپ سے ایک بات کہوں گا اور اگر مروان نے اس کی مجھے قسم نہ دی ہوتی تو میں کبھی آپ کے سامنے اسے نہ چھیڑتا، پھر انہوں نے سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما کی حدیث ذکر کی۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا (میں کیا کروں) کہا کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ حدیث بیان کی تھی اور وہ زیادہ جانتے تھے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 677]
