عربی (اصل)
642 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقْسِمُ قَسْمًا، أَتَاهُ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ، وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ اعْدِلْ فَقَالَ: وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَم أَعْدِلْ قَدْ خِبْتَ وَخَسِرْتَ إِنْ لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ ائْذَنْ لِي فِيهِ، فَأَضْرِبَ عُنَقَهُ فَقَالَ: دَعْهُ، فَإِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلاَتَهُ مَعَ صَلاَتِهِمْ، وَصِيَامهُ مَعَ صِيَامِهِمْ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لاَ يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّة، يُنْظَرُ إِلَى نَصْلِهِ، فَلاَ يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ؛ ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى رِصافِهِ، فَلاَ يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ؛ ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى نَضِيِّهِ، وَهُوَ قِدْحُهُ، فَلاَ يُوجَدُ فِيه شَيْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى قُذَذِهِ، فَلاَ يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ؛ قَدْ سَبَقَ الفَرْثَ وَالدَّمَ؛ آيَتُهُمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ، إِحْدَى عَضُدَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ، أَو مِثْلُ الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ وَيَخْرُجُونَ عَلَى حِينِ فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ هذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَاتَلَهُمْ، وَأَنَا مَعَهُ، فَأَمَرَ بِذلِكَ الرَّجُلِ، فَالْتُمِسَ فَأُتِيَ بِهِ، حَتَّى نَظَرْتُ إِلَيْهِ عَلَى نَعْتِ النَبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي نَعَتَهُ
انگریزی ترجمہ
Narrated Abu Sa'id al-Khudri: While we were with the Messenger of Allah (peace be upon him) and he was distributing (spoils), Dhul Khuwaysirah from the tribe of Tamim came and said: "O Messenger of Allah, be just!" He said: "Woe to you! Who would be just if I am not? You would be in loss if I am not just." Umar said: "Let me strike his neck." He said: "Leave him. He has companions whose prayer and fasting makes yours look insignificant. They recite the Quran, but it does not pass their throats. They will pass through the religion as an arrow passes through the target."
اردو ترجمہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں موجود تھے اور آپ (جنگ حنین کا مال غنیمت) تقسیم فرما رہے تھے، اتنے میں بنی تمیم کا ایک شخص ذوالخویصرہ نامی آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! انصاف سے کام لیجیے۔ یہ سن کر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”افسوس! اگر میں ہی انصاف نہ کروں تو دنیا میں پھر کون انصاف کرے گا؟ اگر میں ظالم ہو جاؤں تب تو میری بھی تباہی اور بربادی ہو جائے۔“سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اس کے بارے میں مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی گردن مار دوں؟ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اسے چھوڑ دو، اس کے جوڑ کے کچھ لوگ پیدا ہوں گے کہ تم اپنی نماز کو ان کی نماز کے مقابلے میں (بظاہر) حقیر سمجھو گے اور تم اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے مقابل ناچیز سمجھو گے، وہ قرآن کی تلاوت کریں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے زور دار تیر جانور سے پار ہو جاتا ہے، اس تیر کے پھل کو اگر دیکھا جائے گا تو اس میں کوئی چیز (خون وغیرہ) نظر نہ آئے گی، پھر اس کے پٹھے کو اگر دیکھا جائے تو جڑ میں اس کے پھل کے داخل ہونے کی جگہ سے اوپر جو لگایا جاتا ہے تو وہاں بھی کچھ نہ ملے گا، اس کے نضی (نضی تیر میں لگائی جانے والی لکڑی کو کہتے ہیں) کو دیکھا جائے گا تو وہاں بھی کچھ نشان نہیں ملے گا، اسی طرح اگر اس کے پر کو دیکھا جائے تو اس میں بھی کچھ نہیں ملے گا، حالانکہ گندگی اور خون سے وہ تیر گزرا ہے، ان کی علامت ایک کالا شخص ہو گا، اس کا ایک بازو عورت کے پستان کی طرح (اٹھا ہوا) ہو گا یا گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہو گا اور حرکت کر رہا ہو گا، یہ لوگ مسلمانوں کے بہترین گروہ سے بغاوت کریں گے۔“سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے سنی تھی اور میں گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ان سے جنگ کی تھی (یعنی خوارج سے)، اس وقت میں بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا اور انہوں نے اس شخص کو تلاش کرایا (جسے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اس گروہ کی علامت کے طور پر بتلایا تھا)، آخر وہ لایا گیا، میں نے اسے دیکھا تو اس کا سارا حلیہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے بیان کیے ہوئے اوصاف کے عین مطابق تھا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 642]
