عربی (اصل)
575 صحيح حديث أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ، فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ: هُمُ الأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، هُمُ الأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ قُلْتُ: مَا شَأْنِي أَيُرَى فِيَّ شَيْءٌ مَا شَأْنِي فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ، فَمَا اسْتَطَعْتُ أَنْ أَسْكُتَ، وَتَغَشَّانِي مَا شَاءَ اللهُ، فَقُلْتُ: مَنْ هُمْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: الأَكْثَرُونَ أَمْوَالاً إِلاَّ مَنْ قَالَ هكَذَا وَهكَذَا وَهكَذَا
انگریزی ترجمہ
Narrated Abu Dharr: I came to him while he was saying, in the shade of the Ka'bah: "They are the losers, by the Lord of the Ka'bah! They are the losers, by the Lord of the Ka'bah!" I said: "What is wrong with me? Perhaps something has been revealed about me." I sat down beside him. He continued saying it, so I could not remain silent and asked: "Who are they, may my father and mother be your ransom, O Messenger of Allah?" He said: "Those with abundant wealth, except those who say 'like this and this and this' (i.e., give generously in all directions), and how few they are."
اردو ترجمہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمتک پہنچا تو آپ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے فرما رہے تھے:”کعبہ کے رب کی قسم! وہی سب سے زیادہ خسارے والے ہیں، کعبہ کے رب کی قسم! وہی سب سے زیادہ خسارے والے ہیں۔“میں نے کہا کہ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم! میری حالت کیسی ہے؟ کیا مجھ میں (بھی) کوئی ایسی بات نظر آئی ہے؟ میری حالت کیسی ہے؟ پھر میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس بیٹھ گیا اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمفرماتے جا رہے تھے، میں آپ کو خاموش نہیں کرا سکتا تھا اور اللہ کی مشیت کے مطابق مجھ پر عجیب بے قراری طاری ہو گئی، میں نے پھر عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں یا رسول اللہ! وہ کون لوگ ہیں؟ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس مال زیادہ ہے، لیکن اس سے وہ مستثنیٰ ہیں جنہوں نے اس میں سے اس اس طرح (یعنی دائیں اور بائیں بے دریغ مستحقین پر) راہِ خدا میں خرچ کیا ہو گا۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 575]
