عربی (اصل)
436 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى رِجَالٌ بِصَلاَتِهِ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا، فَاجْتَمَعَ أَكْثَرُ مِنْهُمْ فَصَلَّوْا مَعَهُ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا، فَكَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّوا بِصَلاَتِهِ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ حَتَّى خَرَجَ لِصَلاَةِ الصُّبْحِ؛ فَلَمَّا قَضَى الْفَجْرَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَتَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ؛ فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ مَكَانُكُمْ، لكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ فَتَعْجِزُوا عَنْهَا
انگریزی ترجمہ
Narrated Aisha: The Messenger of Allah (peace be upon him) went out one night from the middle of the night and prayed in the mosque. Some men prayed with him. In the morning, people talked about it. More people gathered (the next night) and prayed with him. Again, people talked about it. On the third night, even more people gathered. The Messenger of Allah came out and they prayed with him. On the fourth night, the mosque could not contain the people. He only came out for the Fajr prayer. When he finished Fajr, he faced the people, testified the shahada, and said: "As for what follows — your presence here last night was not hidden from me. But I feared that it would be made obligatory upon you and you would be unable to fulfill it."
اردو ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے رات کے وقت اٹھ کر مسجد میں نماز پڑھی اور چند صحابہ بھی آپ کی اقتدا میں نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے، صبح کو ان صحابہ نے دوسرے لوگوں سے اس کا ذکر کیا، چنانچہ (دوسرے دن) اس سے بھی زیادہ جمع ہو گئے اور آپ کے پیچھے نماز پڑھی، دوسری صبح کو اس کا چرچا اور زیادہ ہوا، پھر کیا تھا تیسری رات بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے اور جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلماٹھے تو ان صحابہ نے آپ کے پیچھے نماز شروع کر دی، چوتھی رات جو آئی تو مسجد میں نمازیوں کی کثرت سے تل رکھنے کی بھی جگہ نہیں تھی، لیکن آج رات نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے یہ نماز نہیں پڑھائی اور فجر کی نماز کے بعد لوگوں سے خطاب کیا، پہلے آپ نے کلمہ شہادت پڑھا پھر فرمایا:«أَمَّا بَعْدُ»”اما بعد! مجھے تمہاری اس حاضری سے کوئی ڈر نہیں لیکن میں اس بات سے ڈرا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے پھر تم سے یہ ادا نہ ہو سکے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 436]
