عربی (اصل)
382 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْطَبَ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلاَةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا، ثُمَّ آمُرَ ُرَجُلاً فَيَؤُم النَّاسَ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَرْقًا سَمِينًا، أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ
انگریزی ترجمہ
Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "By the One in whose hand is my soul, I have considered ordering firewood to be collected, then ordering the prayer to be called, then ordering a man to lead the people, and then going to men who do not attend the prayer and burning down their houses. By the One in whose hand is my soul, if one of them knew he would find a meaty bone or two good hooves, he would attend the Isha prayer."
اردو ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ لکڑیوں کے جمع کرنے کا حکم دوں، پھر نماز کے لیے کہوں، اس کے لیے اذان دی جائے، پھر کسی شخص سے کہوں کہ وہ امامت کرے اور میں ان لوگوں کی طرف جاؤں (جو نماز باجماعت میں حاضر نہیں ہوتے) پھر انہیں ان کے گھروں سمیت جلا دوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر یہ جماعت میں نہ شریک ہونے والے لوگ اتنی بات جان لیں کہ انہیں مسجد میں ایک اچھی قسم کی گوشت والی ہڈی مل جائے گی یا دو عمدہ کھر ہی مل جائیں گے، تو یہ عشاء کی جماعت کے لیے مسجد میں ضرور حاضر ہو جائیں۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 382]
