عربی (اصل)
379 صحيح حديث أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ، وَقَدْ سُئِلَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَوَاتِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ، وَالْعَصْرَ، وَيَرْجِعُ الرَّجُلُ إِلَى أَقْصى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ(قَالَ الرَّاوِي عَنْ أَبِي برْزَةَ: وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ)وَلاَ يُبَالِي بِتَأخِيرِ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ، وَلاَ يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَلاَ الْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَيُصَلِّي الصُّبْحَ، فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَيَعْرِفُ جَلِيسَهُ؛ وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ أَوْ إِحْدَاهُمَا مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ
انگریزی ترجمہ
Narrated Abu Barzah al-Aslami: When asked about the prayer times, he said: The Prophet (peace be upon him) used to pray the Dhuhr when the sun declined, the Asr when a man could still walk to the farthest part of Medina while the sun was still bright — (the narrator from Abu Barzah said: I forgot what he said about Maghrib) — he did not mind delaying the Isha until a third of the night, and he did not like sleeping before it or talking after it. He used to pray the Fajr, and when a man left he could recognize his companion. He used to recite between sixty and a hundred verses in the two rak'ahs or one of them.
اردو ترجمہ
سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے اوقاتِ نماز کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمظہر کی نماز سورج ڈھلنے پر پڑھتے تھے، عصر جب پڑھتے تو مدینہ کے انتہائی کنارے تک ایک شخص چلا جاتا لیکن سورج اب بھی باقی رہتا، مغرب کے متعلق جو کچھ آپ نے کہا وہ مجھے یاد نہیں رہا اور عشاء کے لیے تہائی رات تک دیر کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے اور آپ اس سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند کرتے تھے، جب نمازِ صبح سے فارغ ہوتے تو ہر شخص اپنے قریب بیٹھے ہوئے کو پہچان سکتا تھا، آپ دونوں رکعات میں یا ایک میں ساٹھ سے لے کر سو تک آیتیں پڑھتے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 379]
