عربی (اصل)
266 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رضي الله عنه كَانَ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَأْتِي قَوْمَهُ فَيُصَلِّي بِهِمْ الصَّلاَةَ، فَقَرَأَ بِهِمُ الْبَقَرَةَ قَالَ: فَتَجَوَّزَ رَجُلٌ فَصَلَّى صَلاَةً خَفِيفَةً، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاذًا، فَقَالَ: إِنَّهُ مُنَافِقٌ فَبَلَغَ ذلِكَ الرَّجُلَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا قَوْمٌ نَعْمَلُ بِأَيْدِينَا، وَنَسْقِي بِنَوَاضِحِنَا وَإِنَّ مُعَاذًا صَلَّى بِنَا الْبَارِحَةَ،[ص:97]فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ، فَتَجَوَّزْتُ، فَزَعَمْ أَنِّي مُنَافِقٌ فَقَالَ النَبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ أَنْتَ ثلاثًا اقْرَأْ(وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا)وَ(سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى)وَنَحْوَهَا
انگریزی ترجمہ
Narrated Jabir ibn Abdullah: Mu'adh ibn Jabal used to pray with the Prophet (peace be upon him), then go and lead his people in prayer. One night he prayed the Isha with the Prophet (peace be upon him), then went to his people and led them. He began reciting Surah al-Baqarah. A man left the prayer and prayed on his own. People said to him: "Have you become a hypocrite?" He said: "No, by Allah. I will go to the Messenger of Allah and tell him." He went to the Prophet and said: "O Messenger of Allah, Mu'adh prays with you, then comes to lead us. You kept us until late, and he started with Surah al-Baqarah." The Prophet (peace be upon him) said: "O Mu'adh, are you putting people to trial? Recite such-and-such surah and such-and-such surah."
اردو ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ نماز پڑھتے، پھر اپنی قوم میں آتے اور انہیں نماز پڑھاتے۔ انہوں نے (ایک مرتبہ) نماز میں سورہ بقرہ پڑھی، اس پر ایک صاحب جماعت سے الگ ہو گئے اور ہلکی نماز پڑھی۔ جب اس کے متعلق سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو کہا:”وہ منافق ہے“۔ ان کی یہ بات جب ان صاحب کو معلوم ہوئی تو وہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:”یا رسول اللہ! ہم لوگ محنت کا کام کرتے ہیں اور اپنی اونٹنیوں کو خود پانی پلاتے ہیں، معاذ (رضی اللہ عنہ) نے کل رات ہمیں نماز پڑھائی اور سورہ بقرہ پڑھنی شروع کر دی، اس لیے میں نماز توڑ کر الگ ہو گیا، اس پر وہ کہتے ہیں کہ میں منافق ہوں“۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اے معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنے میں مبتلا کرتے ہو؟“تین مرتبہ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے یہ فرمایا:”(جب امام ہو تو) سورہ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ﴾[سورة العلق: 1]،﴿وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا﴾[سورة الشمس: 1]اور﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾[سورة الأعلى: 1]جیسی سورتیں پڑھا کرو۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 266]
