عربی (اصل)
238 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَأُذِّنَ، فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رجلٌ أَسِيفٌ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَأَعَادَ فَأَعَادُوا لَهُ، فَأَعَادَ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ؛ فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى، فَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً، فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، كَأَنِّي أَنْظُرُ رِجْلَيْهِ تَخُطَّانِ الأَرْضَ مِنَ الْوَجَعِ، فَأَرَادَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَكَانَكَ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِهِ فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي،[ص:87]وأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلاَتِهِ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ
انگریزی ترجمہ
Narrated Aisha: When the Messenger of Allah (peace be upon him) became seriously ill, Bilal came to call him for the prayer. He said: "Tell Abu Bakr to lead the people." I said: "O Messenger of Allah, Abu Bakr is a tender-hearted man with a weak voice, and he cries a lot when he recites the Quran." He said: "Tell Abu Bakr to lead the prayer." The Prophet (peace be upon him) came out supported by two men, and I can still see his feet dragging on the ground. Abu Bakr wanted to move back, but the Prophet gestured to him to stay. He was seated beside Abu Bakr.
اردو ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے مرض الموت میں جب نماز کا وقت آیا اور اذان دی گئی تو فرمایا:”ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“، اس وقت آپصلی اللہ علیہ وسلمسے کہا گیا کہ ابوبکر بڑے نرم دل ہیں، اگر وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو نماز پڑھانا ان کے لیے مشکل ہو جائے گا۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پھر وہی حکم فرمایا اور آپ کے سامنے پھر وہی بات دہرا دی گئی۔ تیسری مرتبہ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تم تو بالکل یوسف کی ساتھ والی عورتوں کی طرح ہو (کہ دل میں کچھ ہے اور ظاہر کچھ اور کر رہی ہو)، ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں“۔ آخر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے کے لیے تشریف لائے، اتنے میں نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے مرض میں کچھ کمی محسوس کی اور دو آدمیوں کا سہارا لے کر باہر تشریف لے گئے، گویا میں اس وقت آپ کے قدموں کو دیکھ رہی ہوں کہ تکلیف کی وجہ سے زمین پر لکیر کرتے جاتے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر چاہا کہ پیچھے ہٹ جائیں لیکن نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے اشارے سے انہیں اپنی جگہ پر رہنے کے لیے کہا، پھر ان کے قریب آئے اور بازو میں بیٹھ گئے۔ پھر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے نماز پڑھائی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی اقتداء کی اور لوگوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتداء کی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 238]
