عربی (اصل)
1877 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّاسَ نَزَلُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضَ ثَمُودَ، الْحِجْرَ، فَاسْتَقَوْا مِنْ بِئْرِهَا، وَاعْتَجَنُوا بِهِ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُهَرِيقُوا مَا اسْتَقَوْا مِنْ بِئْرِهَا، وَأَنْ يَعْلِفُوا الإِبِلَ الْعَجِينَ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْتَقُوا مِنَ الْبِئْرِ الَّتِي كَانَ تَرِدُهَا النَّاقَةُ
انگریزی ترجمہ
Narrated Abdullah ibn Umar: The people encamped with the Messenger of Allah (peace be upon him) at the land of Thamud, al-Hijr. They drew water from its well and kneaded dough with it. The Messenger of Allah (peace be upon him) ordered them to pour out the water they had drawn from its well and to feed the dough to the camels. He ordered them to draw water from the well that the she-camel [of Prophet Salih] used to visit.
اردو ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ ثمود کی بستی حجر میں پڑاؤ کیا تو وہاں کے کنوؤں کا پانی اپنے برتنوں میں بھر لیا اور آٹا بھی اس پانی سے گوندھ لیا، لیکن نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے انہیں حکم دیا کہ”جو پانی انہوں نے اپنے برتنوں میں بھر لیا ہے اسے انڈیل دیں اور گندھا ہوا آٹا جانوروں کو کھلا دیں“، اس کے بجائے آپصلی اللہ علیہ وسلمنے انہیں یہ حکم دیا کہ”اس کنویں سے پانی لیں جس سے صالح علیہ السلام کی اونٹنی پانی پیا کرتی تھی۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 1877]
