عربی (اصل)
1869 صحيح حديث سَعْدٍ، قَالَ: إِنِّي لأَوَّلُ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللهِ وَرَأَيْتُنَا نَغْزُو وَمَا لَنَا طَعَامٌ إِلاَّ وَرَقُ الْحُبْلَةِ وَهذَا السَّمُرُ وَإِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةُ، مَالَهُ خِلْطٌ ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَى الإِسْلاَمِ خِبْتُ إِذًا، وَضَلَّ سَعْيِي
انگریزی ترجمہ
Narrated Sa'd (may Allah be pleased with him): I was the first Arab to shoot an arrow in the cause of Allah. We used to go on expeditions when we had no food except the leaves of the hubla tree and this samur (desert tree). One of us would relieve himself like a sheep — with no mixture in his droppings. Yet now Banu Asad try to teach me about Islam. I would be a loser then, and my efforts would have been in vain.
اردو ترجمہ
سیدنا سعد (بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہ نے بیان کیا:”میں سب سے پہلا عرب ہوں جس نے اللہ کے راستے میں تیر چلائے۔ ہم نے اس حال میں وقت گزارا ہے کہ جہاد کر رہے تھے اور ہمارے پاس کھانے کی کوئی چیز«الْحُبْلَةِ»”حبلہ“کے پتوں اور اس«السَّمُرِ»”ببول“کے سوا کھانے کے لیے نہیں تھی اور بکری کی مینگنوں کی طرح ہم پاخانہ کیا کرتے تھے۔ اب یہ بنو اسد کے لوگ مجھ کو اسلام سکھلا کر درست کرنا چاہتے ہیں، پھر تو میں بالکل بدنصیب ٹھہرا اور میرا سارا کیا کرایا اکارت گیا۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 1869]
