عربی (اصل)
1852 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، يَأْتِيَانِ النَّخْلَ الَّذِي فِيهِ ابْنُ صَيَّادٍ حَتَّى إِذَا دَخَلَ النَّخْلَ، طَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، وَهُوَ يَخْتِلُ ابْنَ صَيَّادٍ، أَنْ يَسْمَعَ مِنِ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ، فِي قَطِيفَةٍ لَهُ، فِيهَا رَمْزَةٌ فَرَأَتْ أُمُّ صَيَّادٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ فَقَالَتْ لاِبْنِ صَيَّادٍ: أَيْ صَافِ(وَهُوَ اسْمُهُ)فَثَارَ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ
انگریزی ترجمہ
Ibn Umar (may Allah be pleased with them both) narrated: The Prophet (peace be upon him) and Ubayy ibn Ka'b went to the palm grove where Ibn Sayyad was. When they entered, the Prophet began hiding behind palm trunks to get close enough to hear Ibn Sayyad before being noticed. He saw Ibn Sayyad lying on a bed wrapped in a garment, muttering something. Ibn Sayyad's mother saw the Prophet and called out: "O Saf (Ibn Sayyad's name), here is Muhammad!" Ibn Sayyad then jumped up. The Prophet said: "If she had left him alone, he would have revealed his true nature."
اردو ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ (ایک مرتبہ) ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلماس کھجور کے باغ میں تشریف لائے جس میں ابن صیاد موجود تھا۔ جب آپصلی اللہ علیہ وسلمباغ میں داخل ہو گئے تو کھجور کے تنوں کی آڑ لیتے ہوئے آپصلی اللہ علیہ وسلمآگے بڑھنے لگے۔ آپ چاہتے یہ تھے کہ اسے آپ کی موجودگی کا احساس نہ ہو سکے اور آپ اس کی باتیں سن لیں۔ ابن صیاد اس وقت اپنے بستر پر ایک چادر اوڑھے پڑا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا۔ اتنے میں اس کی ماں نے آنحضورصلی اللہ علیہ وسلمکو دیکھ لیا کہ آپ کھجور کے تنوں کی آڑ لے کر آگے آ رہے ہیں اور اسے آگاہ کر دیا کہ”اے صاف!“یہ اس کا نام تھا۔ ابن صیاد یہ سنتے ہی اچھل پڑا۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اگر اس کی ماں نے اسے یوں ہی رہنے دیا ہوتا تو حقیقت کھل جاتی۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 1852]
