عربی (اصل)
1783 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّمَا كَانَ هذَا، لأَنَّ قرَيْشًا لَمَّا اسْتَعْصَوْا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَعَا عَلَيْهِمْ بِسِنينَ كَسِنِي يُوسُفَ فَأَصَابَهَمْ قَحْطٌ وَجَهْدٌ حَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ، فَيَرَى مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ مِنَ الْجَهْدِ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى(فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشى النَّاسَ هذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ)قَالَ: فَأُتِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ اسْتَسْقِ اللهَ لِمُضَرَ، فَإِنَّهَا قَدْ هَلَكَتْ قَالَ: لِمُضَرَ إِنَّكَ لَجَرِيءٌ فَاسْتَسْقَى، فَسُقُوا، فَنَزَلَتْ(إِنَّكُمْ عَائِدُونَ)فَلَمَّا أَصَابَتْهُمُ الرَّفَاهِيَةُ، عَادُوا إِلَى حَالِهِمْ، حِينَ أَصَابَتْهُمُ الرَّفَاهِيَةُ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ(يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَة الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ)قَالَ: يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ
انگریزی ترجمہ
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: This was because when Quraysh refused to obey the Prophet (peace be upon him), he supplicated against them for years of drought like the years of Yusuf (Joseph). They were afflicted with drought and hardship until they ate bones. A man would look at the sky and see between him and it something like smoke from the hardship. Then Allah revealed: "So watch for the Day when the sky will bring a visible smoke, covering the people. This is a painful punishment." He said: The Messenger of Allah (peace be upon him) was approached and told: "O Messenger of Allah, pray to Allah for rain for Mudar, for they are perishing." He said: "For Mudar? You are indeed bold!" But he prayed for rain, and they were given rain. Then the verse was revealed: "Indeed, you will return [to disbelief]." When they experienced ease, they returned to their former ways. Then Allah revealed: "On the Day when We will seize with the greatest seizure, indeed, We will take retribution." He said: That refers to the Day of Badr.
اردو ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ (قحط) اس لیے پڑا تھا کہ قریش جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی دعوت قبول کرنے کی بجائے شرک پر جمے رہے تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ان کے لیے ایسے قحط کی بددعا کی جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں پڑا تھا۔ چنانچہ قحط کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ لوگ ہڈیاں تک کھانے لگے۔ لوگ آسمان کی طرف نظر اٹھاتے لیکن بھوک اور فاقہ کی شدت کی وجہ سے دھوئیں کے سوا اور کچھ نظر نہ آتا، اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی:﴿فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ * يَغْشَى النَّاسَ ۖ هَٰذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾[سورة الدخان: 10-11]”تو آپ انتظار کریں اس روز کا جب آسمان کی طرف نظر آنے والا دھواں پیدا ہو جو لوگوں پر چھا جائے۔ یہ ایک درد ناک عذاب ہوگا“۔ بیان کیا کہ پھر ایک صاحب آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ! قبیلہ مضر کے لیے بارش کی دعا کیجیے کہ وہ برباد ہو چکے ہیں۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”مضر کے حق میں دعا کے لیے کہتے ہو؟ تم بڑے جری ہو“۔ آخر آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے ان کے لیے دعا فرمائی اور بارش ہوئی۔ اس پر آیت﴿إِنَّكُمْ عَائِدُونَ﴾[سورة الدخان: 15]نازل ہوئی (یعنی اگرچہ تم نے ایمان کا وعدہ کیا ہے لیکن تم کفر کی طرف پھر لوٹ جاؤ گے) چنانچہ جب پھر ان میں خوشحالی ہوئی تو شرک کی طرف لوٹ گئے (اور اپنے ایمان کے وعدے کو بھلا دیا) اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی:﴿يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَىٰ إِنَّا مُنتَقِمُونَ﴾[سورة الدخان: 16]”جس روز ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے (اس روز) ہم پورا بدلہ لے لیں گے“بیان کیا اس آیت سے مراد بدر کی لڑائی ہے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1783]
