عربی (اصل)
1781 صحيح حديث خَبَّابٍ قَالَ: كُنْتُ قَيْنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ لِي عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِلَ دَيْنٌ فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ قَالَ لاَ أُعْطِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: لاَ أَكْفُرُ حَتَّى يُمِيتَكَ اللهُ، ثُمَّ تُبْعَثَ قَالَ: دَعْنِي حَتَّى أَمُوتَ وَأُبْعَثَ، فَسَأُوتَى مَالاً وَوَلَدًا، فَأَقْضِيَكَ، فَنَزَلَتْ(أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا، وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالاً وَوَلَدًا أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمنِ عَهْدًا)
انگریزی ترجمہ
Narrated Khabbab: I was a blacksmith in the pre-Islamic period and had a debt owed to me by al-As ibn Wa'il. I came to him to collect it. He said: "I will not pay you until you disbelieve in Muhammad (peace be upon him)." I said: "I will not disbelieve until Allah causes you to die and then you are raised." He said: "Leave me until I die and am raised, and I will be given wealth and children, and then I will pay you." Then the verse was revealed: "Have you seen the one who disbelieved in Our signs and said: 'I will surely be given wealth and children'? Has he looked into the unseen, or has he taken from the Most Merciful a covenant?"
اردو ترجمہ
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں جاہلیت کے زمانے میں لوہار کا کام کیا کرتا تھا، عاص بن وائل (کافر) پر میرا کچھ قرض تھا، میں ایک دن اس پر تقاضا کرنے گیا، اس نے کہا کہ جب تک تو محمدصلی اللہ علیہ وسلمکا انکار نہیں کرے گا میں تیرا قرض نہیں دوں گا، میں نے جواب دیا کہ میں آپصلی اللہ علیہ وسلمکا انکار اس وقت تک نہیں کروں گا جب تک اللہ تعالیٰ تیری جان نہ لے لے، پھر تو دوبارہ اٹھایا جائے، اس نے کہا کہ پھر مجھے بھی مہلت دے کہ میں مر جاؤں، پھر دوبارہ اٹھایا جاؤں اور مجھے مال اور اولاد ملے گا اس وقت میں بھی تمہارا قرض ادا کروں گا، اس پر آیت نازل ہوئی:﴿أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا * أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا﴾[سورة مريم: 77-78]”کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات کو نہ مانا اور کہا کہ (آخرت میں) مجھے مال اور دولت دی جائے گی، کیا اسے غیب کی خبر ہے؟ یا اس نے اللہ تعالیٰ کے ہاں سے کوئی اقرار لے لیا ہے“۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1781]
