عربی (اصل)
1765 صحيح حديث زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي سَفَرٍ أَصَابَ النَّاسَ فِيهِ شِدَّةٌ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ لأَصْحَابِهِ: لاَ تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِ وَقَالَ: لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ فَأَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ، فَسَأَلَهُ، فَاجْتَهَدَ يَمِينَهُ مَا فَعَلَ قَالُوا: كَذَبَ زَيْدٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِمَّا قَالُوا شِدَّةٌ حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقِي فِي(إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ)فَدَعَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِيَسْتَغْفِرَ لَهُمْ فَلَوَّوْا رُءُوسَهُمْ وَقَوْلُهُ(خُشُبٌ مُسَنَّدَةٌ)قَالَ: كَانُوا رِجَالاً، أَجْمَلَ شَيْءٍ
انگریزی ترجمہ
Narrated Zayd ibn Arqam: We went out with the Prophet (peace be upon him) on a journey during which the people suffered hardship. Abdullah ibn Ubayy said to his companions: "Do not spend on those who are with the Messenger of Allah (peace be upon him) until they disperse from around him." He also said: "If we return to Medina, the mighty will surely expel the lowly from it." I went to the Prophet (peace be upon him) and informed him. He sent for Abdullah ibn Ubayy, who swore earnestly that he had not done it. They said: "Zayd has lied to the Messenger of Allah (peace be upon him)." I felt great distress from what they said, until Allah revealed my vindication in: "When the hypocrites come to you..." The Prophet (peace be upon him) called them to seek forgiveness for them, but they turned their heads. And His saying: "Propped up beams" — he said: They were the most handsome of men.
اردو ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ ایک سفر (غزوۂ تبوک یا بنی المصطلق) میں تھے جس میں لوگوں پر بڑے تنگ اوقات آئے تھے۔ عبد اللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ جو لوگ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس جمع ہیں ان پر کچھ خرچ مت کرو تاکہ وہ ان کے پاس سے منتشر ہو جائیں، اس نے یہ بھی کہا کہ اگر ہم اب مدینہ لوٹ کر جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلیلوں کو نکال کر باہر کرے گا۔ میں نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہو کر اس گفتگو کی اطلاع دی تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو بلا کر پوچھا۔ اس نے بڑی قسمیں کھا کر کہا کہ میں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ لوگوں نے کہا کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے سامنے جھوٹ بولا ہے۔ لوگوں کی اس طرح کی باتوں سے میں بڑا رنجیدہ ہوا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ منافقون نازل فرما کر میری تصدیق فرمائی اور یہ آیت نازل ہوئی﴿إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ﴾[سورة المنافقون: 1]الخ (۶) یعنی جب آپ کے پاس منافق آئے، پھر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے انہیں بلایا تاکہ ان کے لیے مغفرت کی دعا کریں لیکن انہوں نے اپنے سر پھیر لیے۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد﴿خُشُبٌ مُسَنَّدَةٌ﴾[سورة المنافقون: 4]گویا وہ بہت بڑے لکڑی کے کھمبے ہیں (ان کے متعلق اس لیے کہا گیا کہ) وہ بظاہر بڑے خوبصورت اور معقول مگر دل میں منافق تھے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1765]
