عربی (اصل)
1759 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا، فَأَقِمْهُ عَلَيَّ قَالَ: وَلَمْ يَسْأَلْهُ عَنْهُ قَالَ: وَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ، فَصَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَضى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاَةَ، قَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا، فَأَقِمْ فِيَّ كِتَابَ اللهِ قَالَ: أَلَيْسَ قَدْ صَلَّيْتَ مَعَنَا قَالَ: نعمْ قَالَ: فَإِنَّ اللهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ ذَنْبَكَ(أَوْ قَالَ)حَدَّكَ
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Verily, Allah created mercy in one hundred parts. He kept ninety-nine parts with Himself and sent down one part to the earth. From that one part comes all the compassion between creatures, so that an animal lifts its hoof from its young for fear of stepping on it."
اردو ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس تھا کہ ایک صاحب کعب بن عمرو آئے اور کہا، یا رسول اللہ! مجھ پر حد واجب ہو گئی ہے، آپ مجھ پر حد جاری کیجیے۔ بیان کیا کہ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے ان سے کچھ نہیں پوچھا یہاں تک کہ نماز کا وقت ہو گیا اور ان صاحب نے بھی آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ نماز پڑھی۔ جب آپصلی اللہ علیہ وسلمنماز پڑھ چکے تو پھر وہ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آ کر کھڑے ہو گئے اور کہا، یا رسول اللہ! مجھ پر حد واجب ہو گئی ہے، آپ کتاب اللہ کے حکم کے مطابق مجھ پر حد جاری کیجیے۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے اس پر فرمایا:”کیا تم نے ابھی ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی ہے؟“انہوں نے کہا، ہاں۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ”پھر اللہ نے تیرا گناہ معاف کر دیا۔“یا فرمایا کہ”تیری غلطی یا حد (معاف کر دی)۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب التوبة/حدیث: 1759]
