عربی (اصل)
1672 صحيح حَدِيثُ عَائِشَةَ رَضي الله عنها، قَالَتِ: اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «ائْذَنُوا لَهُ، بِئْسَ أَخو العَشِيرَةِ، أَو ابْنُ العَشِيرَةِ»فَلَمَّا دَخَلَ، أَلاَنَ لَهُ الكَلاَمَ. قُلْتُ: يَا رَسُولَ الله! قُلْتَ الَّذِي قُلْتَ، ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ الكَلاَمَ! قَالَ: «أَيْ عَائِشةُ! إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ(أَوْ وَدَعَهُ النَّاسُ)اتِّقَاءَ فُحْشِهِ»
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "Whoever believes in Allah and the Last Day, let him not harm his neighbor. Whoever believes in Allah and the Last Day, let him honor his guest. Whoever believes in Allah and the Last Day, let him speak good or remain silent."
اردو ترجمہ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک شخص نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اسے اجازت دے دو، فلاں قبیلہ کا یہ برا آدمی ہے۔“جب وہ شخص اندر آیا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس کے ساتھ بڑی نرمی سے گفتگو کی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے اس کے متعلق جو کچھ کہنا تھا وہ ارشاد فرمایا اور پھر اس کے ساتھ نرم گفتگو کی۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”عائشہ! وہ آدمی بدترین ہے جسے اس کی بدکلامی کے ڈر سے لوگ چھوڑ دیں۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 1672]
