عربی (اصل)
1534 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلاَنِ، رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَرَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ قَالَ الْمُسْلِمُ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا عَلَى الْعَالَمِينَ فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: وَالَّذِي اصْطفَى مُوسى عَلَى الْعَالَمِينَ فَرَفَعَ الْمُسْلِمُ يَدَهُ، عِنْدَ ذلِكَ، فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيّ فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَه بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ وَأَمْرِ الْمُسْلِمِ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمَ، فَسَأَلَهُ عَنْ ذلِكَ، فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسى، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَصْعَقُ مَعَهُمْ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، فَإِذَا مُوسى بَاطِشٌ جَانِبَ الْعَرْشِ، فَلاَ أَدْرِي أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي، أَوْ كَانَ مِمَّنِ اسْتَثْنَى اللهُ
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "If the people knew what was in the call to prayer and the first row, and they found no way other than drawing lots, they would draw lots. If they knew what was in coming early to the prayer, they would race to it. And if they knew what was in the Isha and Fajr prayers, they would come to them even if they had to crawl."
اردو ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ دو شخصوں نے، جن میں ایک مسلمان تھا اور دوسرا یہودی، ایک دوسرے کو برا بھلا کہا۔ مسلمان نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے محمدصلی اللہ علیہ وسلمکو تمام دنیا والوں پر بزرگی دی اور یہودی نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام دنیا والوں پر بزرگی دی۔ اس پر مسلمان نے ہاتھ اٹھا کر یہودی کے طمانچہ مارا۔ وہ یہودی نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوا اور مسلمان کے ساتھ اپنے واقعے کو بیان کیا۔ پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس مسلمان کو بلایا اور ان سے واقعے کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے آپ کو اس کی تفصیل بتا دی۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس کے بعد فرمایا:”مجھے موسیٰ علیہ السلام پر ترجیح نہ دو۔ لوگ قیامت کے دن بے ہوش کر دیے جائیں گے۔ میں بھی بے ہوش ہو جاؤں گا۔ بے ہوشی سے ہوش میں آنے والا سب سے پہلا شخص میں ہوں گا، لیکن موسیٰ علیہ السلام کو عرش الٰہی کا کنارہ پکڑے ہوئے پاؤں گا۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام بھی بے ہوش ہونے والوں میں ہونے کے باوجود اور مجھ سے پہلے انہیں ہوش آ جائے گا، یا اللہ تعالیٰ نے ان کو ان لوگوں میں رکھا ہے جو بے ہوشی سے مستثنیٰ ہیں۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1534]
