عربی (اصل)
1302 صحيح حديث أَبِي مُوسى وَمُعَاذٍ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَبَا مُوسى وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: يَسِّرَا وَلاَ تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلاَ تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا فَقَالَ أَبُو مُوسى: يَا نَبِيَّ اللهِ إِنَّ أَرْضَنَا بِهَا شَرَابٌ مِنَ الشَّعِيرِ، الْمِزْرُ؛ وَشَرَابٌ مِنَ الْعَسَلِ، الْبِتْعُ فَقَالَ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ
انگریزی ترجمہ
Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) prohibited drinking from the mouth of the water skin.
اردو ترجمہ
سیدنا سعید بن ابی بردہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے ان کے دادا سیدنا ابو موسیٰ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا اور فرمایا:”لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنا، ان کو دشواریوں میں نہ ڈالنا، لوگوں کو خوش خبریاں دینا، دین سے نفرت نہ دلانا اور تم دونوں آپس میں موافقت رکھنا۔“اس پر سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہمارے ملک میں جو سے ایک شراب تیار ہوتی ہے جس کا نام«الْمِزْرُ»”المزر“ہے اور شہد سے ایک شراب تیار ہوتی ہے جو«الْبِتْعُ»”البتع“کہلاتی ہے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1302]
