عربی (اصل)
1244 صحيح حديث أَبِي مُوسى، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا الْقِتَالُ فِي سَبِيلِ اللهِ فَإِنَّ أَحَدَنَا يُقَاتِلُ غَضَبًا، وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً فَرَفَعَ إِلَيْهِ رَأْسَهُ(قَالَ، وَمَا رَفَعَ إِلَيْهِ رَأْسَهُ إِلاَّ أَنَّهُ كَانَ قَائِمًا)فَقَالَ: مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "We are the last (to come) but the first (to enter Paradise) on the Day of Judgment, even though others were given the Book before us and we were given it after them. This (Friday) is the day about which they differed. Allah guided us to it, and the people follow us: the Jews tomorrow (Saturday) and the Christians the day after tomorrow (Sunday)."
اردو ترجمہ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! اللہ کی راہ میں لڑائی کی کیا صورت ہے؟ کیونکہ ہم میں سے کوئی غصے کی وجہ سے اور کوئی غیرت کی وجہ سے جنگ کرتا ہے، تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس کی طرف سر اٹھایا، اور سر اسی لیے اٹھایا کہ پوچھنے والا کھڑا ہوا تھا، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جو اللہ کے کلمے کو سر بلند کرنے کے لیے لڑے، وہ اللہ کی راہ میں (لڑتا) ہے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1244]
