عربی (اصل)
116 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ ثُمَّ يَقُولُ اللهُ تَعَالَى: أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانِ، فَيُخْرَجُونَ مِنْهَا قَدِ اسْوَدُّوا، فَيُلْقَونَ فِي نَهَرِ الْحَيَا أَوِ الْحَيَاةِ(شَكٌّ من أَحد رجال السَّنَد)فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي جَانِبِ السَّيْلِ، أَلَمْ تَرَأَنَّهَا تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً
انگریزی ترجمہ
Abu Ayyub al-Ansari (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "It is not permissible for a man to forsake his brother for more than three nights. They meet and each turns away from the other. The better of the two is the one who initiates the greeting of peace."
اردو ترجمہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو جائیں گے، اللہ پاک فرمائے گا: جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر (بھی) ایمان ہو، اس کو بھی دوزخ سے نکال لو۔ تب (ایسے لوگ) دوزخ سے نکال لیے جائیں گے اور وہ جل کر کوئلے کی طرح سیاہ ہو چکے ہوں گے، پھر زندگی کی نہر میں یا بارش کے پانی میں ڈالے جائیں گے۔ (یہاں راوی کو شک ہو گیا ہے کہ کون سا لفظ استعمال کیا) اس وقت وہ دانے کی طرح اگ آئیں گے، جس طرح ندی کے کنارے دانے اگ آتے ہیں، کیا تم نے نہیں دیکھا کہ دانہ زردی مائل پیچ در پیچ نکلتا ہے؟“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 116]
