Narrated Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him), from Malik ibn Aws ibn al-Hadathan al-Nasri: Umar ibn al-Khattab summoned him. While he was with him, his doorkeeper Yarfa came and said: "Will you admit Uthman, Abd al-Rahman, al-Zubayr, and Sa'd, who are seeking permission?" He said: "Yes, let them in." After a while, he came again and said: "Will you admit Abbas and Ali, who are seeking permission?" He said: "Yes." When they entered, Abbas said: "O Commander of the Faithful, judge between me and this one" — they were disputing over the fay' that Allah had bestowed upon His Messenger (peace be upon him) from Banu al-Nadir. Ali and Abbas exchanged harsh words. The group said: "O Commander of the Faithful, judge between them and relieve one of them from the other." Umar said: "Be patient. I adjure you by Allah, by whose permission the heavens and earth stand — do you know that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: 'We are not inherited from; what we leave is charity,' meaning himself?" They said: "He did say that." Umar then turned to Abbas and Ali and said: "I adjure you both by Allah — do you know that the Messenger of Allah (peace be upon him) said that?" They both said: "Yes." He said: "Then let me tell you about this matter. Allah the Glorified had granted His Messenger (peace be upon him) from this fay' something He gave to no one else, as He said: 'And what Allah restored to His Messenger from them — for that you did not spur any horse or camel' [al-Hashr: 6], until His saying, 'Capable.' This was exclusively for the Messenger of Allah (peace be upon him). Then, by Allah, he did not hoard it from you nor did he prefer himself over you. He gave it to you and distributed it among you until this wealth remained from it. The Messenger of Allah (peace be upon him) used to spend on his family their yearly maintenance from this wealth, then take what remained and put it where Allah's wealth is put. The Messenger of Allah (peace be upon him) did this throughout his life. Then the Prophet (peace be upon him) passed away, and Abu Bakr said: 'I am the successor of the Messenger of Allah (peace be upon him).' Abu Bakr took charge of it and managed it as the Messenger of Allah (peace be upon him) had managed it. And you were at that time — " He turned to Ali and Abbas and said: "You both claim that Abu Bakr was thus and such in his handling of it, but Allah knows that he was truthful, righteous, rightly-guided, and following the truth. Then Allah took Abu Bakr's soul, and I said: 'I am the successor of the Messenger of Allah (peace be upon him) and Abu Bakr.' I held it for two years of my rule, managing it as the Messenger of Allah (peace be upon him) and Abu Bakr had managed it, and Allah knows that I am truthful, righteous, rightly-guided, and following the truth. Then you both came to me — your request was the same and your matter was united. You came to me (meaning Abbas), and I said to you both: 'The Messenger of Allah (peace be upon him) said: We are not inherited from; what we leave is charity.' When I decided to hand it over to you, I said: 'If you wish, I will hand it over to you on the condition that you pledge before Allah to manage it as the Messenger of Allah (peace be upon him), Abu Bakr, and I managed it since I took charge. Otherwise, do not speak to me about it.' You both said: 'Hand it over to us on that condition,' and I handed it over to you. Do you now seek from me a judgment other than that? By Allah, by whose permission the heavens and earth stand, I shall not judge in it with any other judgment until the Hour comes. If you are unable to manage it, return it to me, and I will take care of it for you."
اردو ترجمہ
مالک بن اوس بن حدثان نصری بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں بلایا تھا (وہ ابھی امیر المومنین) کی خدمت میں موجود تھے کہ امیر المومنین کے چوکیدار یرفاء آئے اور عرض کیا کہ عثمان بن عفان، عبدالرحمن بن عوف، زبیر بن عوام اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم اندر آنا چاہتے ہیں، کیا آپ کی طرف سے انہیں اجازت ہے؟ امیر المومنین نے فرمایا کہ ہاں، انہیں اندر بلا لو۔ تھوڑی دیر بعد یرفاء پھر آئے اور عرض کیا سیدنا عباس اور علی رضی اللہ عنہما بھی اجازت چاہتے ہیں، کیا انہیں اندر آنے کی اجازت ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ جب یہ دونوں بزرگ بھی اندر تشریف لے آئے تو عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! میرا اور ان (علی رضی اللہ عنہ) کا فیصلہ کر دیجیے۔ وہ دونوں اس جائیداد کے بارے میں جھگڑ رہے تھے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولصلی اللہ علیہ وسلمکو مال بنو نضیر سے فے کے طور پر دی تھی۔ اس موقع پر علی اور عباس رضی اللہ عنہما نے ایک دوسرے کو سخت سست کہا اور ایک دوسرے پر تنقید کی تو حاضرین بولے: اے امیر المومنین! آپ ان دونوں بزرگوں کا فیصلہ کر دیں تاکہ دونوں میں کوئی جھگڑا باقی نہ رہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جلدی نہ کیجیے، میں آپ لوگوں سے اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا تھا:”ہم انبیاء کی وراثت تقسیم نہیں ہوتی، جو کچھ ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے“اور اس سے حضورصلی اللہ علیہ وسلمکی مراد خود اپنی ذات سے تھی؟ حاضرین بولے کہ جی ہاں، حضورصلی اللہ علیہ وسلمنے یہ فرمایا تھا۔ پھر سیدنا عمر، سیدنا عباس اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے کہا: میں آپ دونوں سے بھی اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ کو بھی معلوم ہے کہ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے یہ حدیث ارشاد فرمائی تھی؟ ان دونوں بزرگوں نے جواب ہاں میں دیا۔ اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں آپ لوگوں سے اس معاملے پر گفتگو کرتا ہوں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے رسولصلی اللہ علیہ وسلمکو اس مال فے میں سے (جو بنو نضیر سے ملا تھا) آپ کو خاص طور پر عطا فرما دیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق فرمایا ہے:﴿وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾[سورة الحشر: 6]”ان (بنو نضیر) کے مالوں سے جو اللہ نے اپنے رسول کو دیا ہے تو تم نے اس کے لیے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے (یعنی جنگ نہیں کی) بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو جس پر چاہے غالب کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے“۔ تو یہ مال خاص رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے لیے تھا، لیکن اللہ کی قسم کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلمنے تمہیں نظر انداز کر کے اپنے لیے مخصوص نہیں فرمایا تھا نہ تم پر اپنی ذات کو ترجیح دی تھی۔ پہلے اس مال میں سے تمہیں دیا اور تم میں اس کی تقسیم کی اور آخر اس فے میں سے یہ جائیداد بچ گئی تھی، پس آپ اپنی ازواج مطہرات کا سالانہ خرچ بھی اسی میں سے نکالتے تھے اور جو کچھ اس میں سے باقی بچتا اسے آپ اللہ تعالیٰ کے مال کے مصارف میں خرچ کیا کرتے تھے۔ نبیصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنی زندگی میں یہ جائیداد انہی مصارف میں خرچ کی۔ پھر جب آپ کی وفات ہو گئی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکا خلیفہ بنایا گیا ہے، اس لیے انہوں نے اسے اپنے قبضے میں لیا اور انہی مصارف میں خرچ کرتے جن میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمخرچ کیا کرتے تھے اور آپ لوگ یہیں موجود تھے۔ اس کے بعد سیدنا عمر، سیدنا علی اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی وہی طریقہ اختیار کیا، جیسا کہ آپ لوگوں کو بھی اس کا اقرار ہے اور اللہ کی قسم! وہ اپنے اس طرز عمل میں سچے، مخلص، صحیح راستے پر اور حق کی پیروی کرنے والے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی اٹھا لیا، میں نے کہا کہ چونکہ مجھے رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلماور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا خلیفہ بنایا گیا ہے، اس لیے میں اس جائیداد پر اپنی خلافت کے دو سالوں سے قابض ہوں اور اسے انہی مصارف میں صرف کرتا ہوں جس میں نبیصلی اللہ علیہ وسلماور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں بھی اپنے طرز عمل میں سچا، مخلص، صحیح راستے پر اور حق کی پیروی کرنے والا ہوں۔ پھر آپ دونوں میرے پاس آئے ہیں، آپ دونوں ایک ہی ہیں اور آپ کا معاملہ بھی ایک ہے۔ پھر آپ میرے پاس آئے (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مراد سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے تھی) تو میں نے آپ دونوں کے سامنے یہ بات صاف کہہ دی تھی کہ رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلمفرما گئے تھے:”ہمارا ترکہ تقسیم نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے“۔ پھر جب وہ جائیداد بطور انتظام میں آپ دونوں کو دے دوں تو میں نے آپ سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں یہ جائیداد آپ کو دے سکتا ہوں لیکن شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کیے ہوئے عہد کی تمام ذمہ داریوں کو آپ پورا کریں، آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلماور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اور خود میں نے جب سے میں خلیفہ بنا ہوں، اس جائیداد کے معاملے میں کس طرز عمل کو اختیار کیا ہوا ہے، اگر یہ شرط آپ کو منظور نہ ہو تو پھر مجھ سے اس کے بارے میں آپ لوگ بات نہ کریں۔ آپ لوگوں نے اس پر کہا کہ ٹھیک ہے آپ اسی شرط پر وہ جائیداد ہمارے حوالے کر دیں، چنانچہ میں نے اسے آپ لوگوں کے حوالے کر دیا۔ کیا آپ حضرات اس کے سوا کوئی اور فیصلہ اس سلسلے میں مجھ سے کروانا چاہتے ہیں؟ اس اللہ کی قسم! جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، قیامت تک میں اس کے سوا کوئی اور فیصلہ نہیں کر سکتا، اگر آپ لوگ (شرط کے مطابق اس کے انتظام سے) عاجز ہیں تو وہ جائیداد مجھے واپس کر دیں میں خود اس کا انتظام کروں گا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1147]
Narrated Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him), from Malik ibn Aws ibn al-Hadathan al-Nasri: Umar ibn al-Khattab summoned him. While he was with him, his doorkeeper Yarfa came and said: "Will you admit Uthman, Abd al-Rahman, al-Zubayr, and Sa'd, who are seeking permission?" He said: "Yes, let them in." After a while, he came again and said: "Will you admit Abbas and Ali, who are seeking permission?" He said: "Yes." When they entered, Abbas said: "O Commander of the Faithful, judge between me and this one" — they were disputing over the fay' that Allah had bestowed upon His Messenger (peace be upon him) from Banu al-Nadir. Ali and Abbas exchanged harsh words. The group said: "O Commander of the Faithful, judge between them and relieve one of them from the other." Umar said: "Be patient. I adjure you by Allah, by whose permission the heavens and earth stand — do you know that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: 'We are not inherited from; what we leave is charity,' meaning himself?" They said: "He did say that." Umar then turned to Abbas and Ali and said: "I adjure you both by Allah — do you know that the Messenger of Allah (peace be upon him) said that?" They both said: "Yes." He said: "Then let me tell you about this matter. Allah the Glorified had granted His Messenger (peace be upon him) from this fay' something He gave to no one else, as He said: 'And what Allah restored to His Messenger from them — for that you did not spur any horse or camel' [al-Hashr: 6], until His saying, 'Capable.' This was exclusively for the Messenger of Allah (peace be upon him). Then, by Allah, he did not hoard it from you nor did he prefer himself over you. He gave it to you and distributed it among you until this wealth remained from it. The Messenger of Allah (peace be upon him) used to spend on his family their yearly maintenance from this wealth, then take what remained and put it where Allah's wealth is put. The Messenger of Allah (peace be upon him) did this throughout his life. Then the Prophet (peace be upon him) passed away, and Abu Bakr said: 'I am the successor of the Messenger of Allah (peace be upon him).' Abu Bakr took charge of it and managed it as the Messenger of Allah (peace be upon him) had managed it. And you were at that time — " He turned to Ali and Abbas and said: "You both claim that Abu Bakr was thus and such in his handling of it, but Allah knows that he was truthful, righteous, rightly-guided, and following the truth. Then Allah took Abu Bakr's soul, and I said: 'I am the successor of the Messenger of Allah (peace be upon him) and Abu Bakr.' I held it for two years of my rule, managing it as the Messenger of Allah (peace be upon him) and Abu Bakr had managed it, and Allah knows that I am truthful, righteous, rightly-guided, and following the truth. Then you both came to me — your request was the same and your matter was united. You came to me (meaning Abbas), and I said to you both: 'The Messenger of Allah (peace be upon him) said: We are not inherited from; what we leave is charity.' When I decided to hand it over to you, I said: 'If you wish, I will hand it over to you on the condition that you pledge before Allah to manage it as the Messenger of Allah (peace be upon him), Abu Bakr, and I managed it since I took charge. Otherwise, do not speak to me about it.' You both said: 'Hand it over to us on that condition,' and I handed it over to you. Do you now seek from me a judgment other than that? By Allah, by whose permission the heavens and earth stand, I shall not judge in it with any other judgment until the Hour comes. If you are unable to manage it, return it to me, and I will take care of it for you."
مالک بن اوس بن حدثان نصری بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں بلایا تھا (وہ ابھی امیر المومنین) کی خدمت میں موجود تھے کہ امیر المومنین کے چوکیدار یرفاء آئے اور عرض کیا کہ عثمان بن عفان، عبدالرحمن بن عوف، زبیر بن عوام اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم اندر آنا چاہتے ہیں، کیا آپ کی طرف سے انہیں اجازت ہے؟ امیر المومنین نے فرمایا کہ ہاں، انہیں اندر بلا لو۔ تھوڑی دیر بعد یرفاء پھر آئے اور عرض کیا سیدنا عباس اور علی رضی اللہ عنہما بھی اجازت چاہتے ہیں، کیا انہیں اندر آنے کی اجازت ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ جب یہ دونوں بزرگ بھی اندر تشریف لے آئے تو عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! میرا اور ان (علی رضی اللہ عنہ) کا فیصلہ کر دیجیے۔ وہ دونوں اس جائیداد کے بارے میں جھگڑ رہے تھے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولصلی اللہ علیہ وسلمکو مال بنو نضیر سے فے کے طور پر دی تھی۔ اس موقع پر علی اور عباس رضی اللہ عنہما نے ایک دوسرے کو سخت سست کہا اور ایک دوسرے پر تنقید کی تو حاضرین بولے: اے امیر المومنین! آپ ان دونوں بزرگوں کا فیصلہ کر دیں تاکہ دونوں میں کوئی جھگڑا باقی نہ رہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جلدی نہ کیجیے، میں آپ لوگوں سے اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا تھا:”ہم انبیاء کی وراثت تقسیم نہیں ہوتی، جو کچھ ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے“اور اس سے حضورصلی اللہ علیہ وسلمکی مراد خود اپنی ذات سے تھی؟ حاضرین بولے کہ جی ہاں، حضورصلی اللہ علیہ وسلمنے یہ فرمایا تھا۔ پھر سیدنا عمر، سیدنا عباس اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے کہا: میں آپ دونوں سے بھی اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ کو بھی معلوم ہے کہ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے یہ حدیث ارشاد فرمائی تھی؟ ان دونوں بزرگوں نے جواب ہاں میں دیا۔ اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں آپ لوگوں سے اس معاملے پر گفتگو کرتا ہوں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے رسولصلی اللہ علیہ وسلمکو اس مال فے میں سے (جو بنو نضیر سے ملا تھا) آپ کو خاص طور پر عطا فرما دیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق فرمایا ہے:﴿وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾[سورة الحشر: 6]”ان (بنو نضیر) کے مالوں سے جو اللہ نے اپنے رسول کو دیا ہے تو تم نے اس کے لیے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے (یعنی جنگ نہیں کی) بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو جس پر چاہے غالب کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے“۔ تو یہ مال خاص رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے لیے تھا، لیکن اللہ کی قسم کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلمنے تمہیں نظر انداز کر کے اپنے لیے مخصوص نہیں فرمایا تھا نہ تم پر اپنی ذات کو ترجیح دی تھی۔ پہلے اس مال میں سے تمہیں دیا اور تم میں اس کی تقسیم کی اور آخر اس فے میں سے یہ جائیداد بچ گئی تھی، پس آپ اپنی ازواج مطہرات کا سالانہ خرچ بھی اسی میں سے نکالتے تھے اور جو کچھ اس میں سے باقی بچتا اسے آپ اللہ تعالیٰ کے مال کے مصارف میں خرچ کیا کرتے تھے۔ نبیصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنی زندگی میں یہ جائیداد انہی مصارف میں خرچ کی۔ پھر جب آپ کی وفات ہو گئی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکا خلیفہ بنایا گیا ہے، اس لیے انہوں نے اسے اپنے قبضے میں لیا اور انہی مصارف میں خرچ کرتے جن میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمخرچ کیا کرتے تھے اور آپ لوگ یہیں موجود تھے۔ اس کے بعد سیدنا عمر، سیدنا علی اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی وہی طریقہ اختیار کیا، جیسا کہ آپ لوگوں کو بھی اس کا اقرار ہے اور اللہ کی قسم! وہ اپنے اس طرز عمل میں سچے، مخلص، صحیح راستے پر اور حق کی پیروی کرنے والے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی اٹھا لیا، میں نے کہا کہ چونکہ مجھے رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلماور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا خلیفہ بنایا گیا ہے، اس لیے میں اس جائیداد پر اپنی خلافت کے دو سالوں سے قابض ہوں اور اسے انہی مصارف میں صرف کرتا ہوں جس میں نبیصلی اللہ علیہ وسلماور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں بھی اپنے طرز عمل میں سچا، مخلص، صحیح راستے پر اور حق کی پیروی کرنے والا ہوں۔ پھر آپ دونوں میرے پاس آئے ہیں، آپ دونوں ایک ہی ہیں اور آپ کا معاملہ بھی ایک ہے۔ پھر آپ میرے پاس آئے (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مراد سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے تھی) تو میں نے آپ دونوں کے سامنے یہ بات صاف کہہ دی تھی کہ رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلمفرما گئے تھے:”ہمارا ترکہ تقسیم نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے“۔ پھر جب وہ جائیداد بطور انتظام میں آپ دونوں کو دے دوں تو میں نے آپ سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں یہ جائیداد آپ کو دے سکتا ہوں لیکن شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کیے ہوئے عہد کی تمام ذمہ داریوں کو آپ پورا کریں، آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلماور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اور خود میں نے جب سے میں خلیفہ بنا ہوں، اس جائیداد کے معاملے میں کس طرز عمل کو اختیار کیا ہوا ہے، اگر یہ شرط آپ کو منظور نہ ہو تو پھر مجھ سے اس کے بارے میں آپ لوگ بات نہ کریں۔ آپ لوگوں نے اس پر کہا کہ ٹھیک ہے آپ اسی شرط پر وہ جائیداد ہمارے حوالے کر دیں، چنانچہ میں نے اسے آپ لوگوں کے حوالے کر دیا۔ کیا آپ حضرات اس کے سوا کوئی اور فیصلہ اس سلسلے میں مجھ سے کروانا چاہتے ہیں؟ اس اللہ کی قسم! جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، قیامت تک میں اس کے سوا کوئی اور فیصلہ نہیں کر سکتا، اگر آپ لوگ (شرط کے مطابق اس کے انتظام سے) عاجز ہیں تو وہ جائیداد مجھے واپس کر دیں میں خود اس کا انتظام کروں گا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1147]