عربی (اصل)
1145 صحيح حديث عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ فِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ، فَنظَرْتُ عَنْ يَمِينِي وَشِمَالِي، فَإِذَا أَنَا بِغُلاَمَيْنِ مِنَ الأَنْصَارِ حَدِيثَةٍ أَسْنَانُهُمَا، تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا، فَغَمَزَنِي أَحَدُهُمَا، فَقَالَ: يَا عَمِّ هَلْ تَعْرِفُ أَبا جَهْلٍ قُلْتُ: نَعَمْ، مَا حَاجَتُكَ إِلَيْهِ يَا ابْنَ أَخِي قَالَ: أُخْبِرْتُ أَنَّهُ يَسُبُّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنْ رَأَيْتُهُ لاَ يُفَارِقُ سَوَادِي سَوَادَهُ حَتَّى يَمُوتَ الأَعْجَلُ مِنَّا فَتَعَجَّبْتُ لِذلِكَ فَغَمَزَنِي الآخَرُ، فَقَالَ لِي مِثْلَهَا فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَجُولُ فِي النَّاس، قلْتُ: أَلاَ إِنَّ هذَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي سَأَلْتُمَانِي فَابْتَدَرَاهُ بِسَيْفِيْهِمَا، فَضَرَبَاهُ حَتَّى قَتَلاَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَاهُ، فَقَالَ: أَيُّكُمَا قَتَلَهُ قَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: أَنَا قَتَلْتُهُ؛ فَقَالَ: هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْكُمَا قَالاَ: لاَ فَنَظَرَ فِي السَّيْفَيْنِ، فَقَالَ: كِلاَكُمَا قَتَلَهُ، سَلَبُهُ لِمُعَاذٍ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَكَانَا مُعَاذَ بْنَ عَفْرَاءَ، وَمُعَاذَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ
انگریزی ترجمہ
Narrated Abd al-Rahman ibn Awf: While I was standing in the ranks on the day of Badr, I looked to my right and left and found myself between two young boys from the Ansar. I wished I were between stronger men than them. One of them nudged me and asked: "Uncle, do you know Abu Jahl?" I said: "Yes, what do you want with him, nephew?" He said: "I have been told that he insults the Messenger of Allah (peace be upon him). By the One in whose hand is my soul, if I see him, my shadow will not part from his shadow until whichever of us is destined to die first is dead." I was amazed at that. Then the other nudged me and said the same thing. Before long, I spotted Abu Jahl moving about among the people. I said: "There is the one you asked me about." They both rushed at him with their swords and struck him until they killed him. Then they went to the Messenger of Allah (peace be upon him) and informed him. He asked: "Which of you killed him?" Each of them said: "I killed him." He asked: "Have you wiped your swords?" They said: "No." He looked at both swords and said: "You both killed him. His spoils belong to Mu'adh ibn Amr ibn al-Jamuh." The two were Mu'adh ibn Afra' and Mu'adh ibn Amr ibn al-Jamuh.
اردو ترجمہ
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بدر کی لڑائی میں، میں صف کے ساتھ کھڑا ہوا تھا، میں نے جو دائیں بائیں جانب دیکھا تو میرے دونوں طرف قبیلہ انصار کے دو نوعمر لڑکے تھے، میں نے آرزو کی کہ کاش! میں ان سے زیادہ عمر والوں کے بیچ میں ہوتا، ایک نے میری طرف اشارہ کیا اور پوچھا: چچا! کیا آپ ابوجہل کو بھی پہچانتے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں! لیکن بیٹے تم لوگوں کو اس سے کیا کام ہے؟ لڑکے نے جواب دیا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو گالیاں دیتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر مجھے وہ مل گیا تو اس وقت تک میں اس سے جدا نہ ہوں گا جب تک ہم میں سے کوئی، جس کی قسمت میں پہلے مرنا ہوگا، مر نہ جائے، مجھے اس پر بڑی حیرت ہوئی، پھر دوسرے نے اشارہ کیا اور وہی باتیں اس نے بھی کہیں، ابھی چند لمحے ہی گزرے تھے کہ مجھے ابوجہل دکھائی دیا جو لوگوں (کفار کے لشکر) میں گھومتا پھر رہا تھا، میں نے ان لڑکوں سے کہا کہ جس کے متعلق تم لوگ مجھ سے پوچھ رہے تھے، وہ سامنے (پھرتا ہوا نظر آ رہا) ہے، دونوں نے اپنی تلواریں سنبھالیں اور اس پر جھپٹ پڑے اور حملہ کر کے اسے قتل کر ڈالا، اس کے بعد رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو خبر دی، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پوچھا:”تم دونوں میں سے کس نے اسے مارا ہے؟“دونوں نوجوانوں نے کہا کہ میں نے قتل کیا ہے، اس لیے آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ان سے پوچھا:”کیا اپنی تلواریں تم نے صاف کر لی ہیں؟“انہوں نے عرض کیا کہ نہیں، پھر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے دونوں تلواروں کو دیکھا اور فرمایا:”تم دونوں ہی نے اسے مارا ہے اور اس کا سارا سامان معاذ بن عمرو بن جموح کو ملے گا“، وہ دونوں نوجوان معاذ بن عفراء اور معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہما تھے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1145]
